جب کوئی شگون دل میں کھٹکے اس وقت کی دُعا

اَللّٰھُمَّ لَا یَأْ تِیْ بِالْحَسَنَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّئَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج ۴ ص ۲۵ حدیث ۳۹۱۹)

ترجمہ: اے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تو ہی بھلائی عطا فرماتا ہے اور تو ہی برائی دور کرتا ہے اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت تیری ہی مدد سے ہے۔

بدشگونی کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مثلاً بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اگر ان کے سامنے سے کالی بلی راستہ کاٹ کر گزر جائے تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے برا ہوا ، ہم جس مقصد کے لئے جا رہے تھے وہ پورا نہ ہوگا لہٰذا واپس گھر لوٹ جاتے ہیں اور دوبارہ پھر جس مقصد کے لئے گھر سے نکلے تھے اس کام کے لئے روانہ ہوتے ہیں ۔یاد رہے کہ اسلام میں ایسے توہّمات (وہموں ) اور بدشگونیوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، ان سے اجتناب ضروری ہے ، اگر دل میں کبھی ایسی بات کھٹکے تو یہ دُعا پڑھے کہ اس دُعا میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ مؤثر حقیقی اللّٰہ تَعَالٰی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے یہی بات اگر بندۂ مؤمن ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھے تو تمام توہمات اور بدشگونیوں سے چھٹکار ا ہو جائے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

Related

No results found.
keyboard_arrow_up