شرک کی حقیقت

شرک کی تعریف:

قال الامام سعد الدین تفتازانی علیہ رحمۃ اللّٰہ “الإشراک ھو إثبات الشّریک فی الأُلوھیّۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس ، أو بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبادۃ الأصنام ” ( شرح العقائد النسفیۃ)

ترجمہ:* امام سعد الدین تفتازانی علیہ رحمۃ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ شرک  وہ ‘الوہیت (خدائی) میں دوسرے کو شریک کرنا،بایں معنی کہ غیر خدا کو واجب الوجود (یعنی جس کا وجود  ضروری ہو)جس طرح مجوس کا عقیدہ یاغیرخداکو مستحق عبادت جاننا جس طرح بتوں کے پجاریوں کا عقیدہ ھے بتوں کے بارے میں

دور حاضر کے فتنوں میں سے ایک بڑا فتنہ یہ ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بات بات پر بلاوجہ سادہ لوح  مسلمان پر کفر اور شرک کے باطل فتوے لگا دیے جاتے ہیں اور مشرک سازی کے اس شوق میں قرآن و حدیث کے اصول بھی پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں

ان لوگوں کو اتنا بھی احساس نہیں کہ دین اسلام تو شرک کی جڑیں کاٹنے کے لیے آیا ہے مگر یہ لوگ خوف خدا سے عاری ہو کر دن رات مسلمان پر ہی بے دریغ فتوے بازی کا بازار گرم کیے رہتے ہیں

شاید نادان لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح مسلمانوں کو مشرک بنا کر ہم دین اسلام کی بہت بڑی خدمت سرانجام دے رہے ہیں مگرانہیں نہیں معلوم کہ وہ الٹا اپنے لیے جہنم خرید رہے ہیں

کیونکہ جس طرح شرک کرنا بہت بڑا ظلم اور جرم ہے اسی طرح کسی مسلمان کو مشرک قرار دینا بھی حرام اور بہت بڑا جرم ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إذا قال الرّجل لأَخیہ: یا کافر! فقد باءَ بأحدھما

(صحیح مسلم ، کتاب الایمان)*

ترجمہ: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو یہ کلمہ دونوں میں سے کوئی ایک ضرور لے کر اٹھے گا”

اس حدیث پاک سے واضح ہے کہ کسی مسلمان کو بلاوجہ کافر اور مشرک قرار دینا خود کافر اور مشرک بننا ہے

قابل صد افسوس یہ کہ کچھ لوگ مسلمان کو مشرک قرار دینے کا راگ الاپنے میں ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں حالانکہ شرک و کفر کا موضوع انتہائی نازک ہے شرک کا مفہوم یہ ہے کہ “اگر کوئی شخص اللّٰہ کے سوا کسی کے لیے ادنی سے ادنی ذاتی علم غیب ،قدرت، تصرف،وغیرہ تسلیم کرے تو یہ یقینا شرک قرار پائے گا کیونکہ کائنات میں کسی کو بھی ذاتی طور پر اللّٰہ تعالی کے دیے  بغیر کوئی اختیار، قدرت،  تصرف،علم غیب بلکہ کوئی بھی شئ ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔”

علماء کرام نے شرک کی تین اقسام بیان فرمائیں ہیں:

1: شرک فی العبادۃ:

“اللہ تعالی کے سوا کسی  کو  عبادت مستحق سمجھنا جیسے مشرکین مکہ جنہوں نے کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے جن کی وہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے

2: شرک فی الذات:

 اللہ تعالی کی ذات میں  کسی کو اللہ کے ساتھ شریک کرنا جیسےمجوسی جو دو خداؤں کو مانتے ہیں

3: شرک فی الصفات:

 کسی کی ذات اور شخصیت میں اللّہ تعالی جیسی صفات ماننا

الحمدللہ مسلمان ہر قسم کے  شرک سے محفوظ ہے وہ نہ توشرک فی العبادت میں مبتلا اور نہ ہی شرک فی الذات اور شرک فی الصفات میں مبتلا کیونکہ مسلمان نہ اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت کرتا اورہی نہ اس کے سوا کسی کومستحق عبادت  جانتا ہےاور نہ ہی اللہ تعالی جیسا کسی کو مانتا ہے اور نہ ہی اس کی صفات جیسی صفات کسی کے لیے تسلیم کرتا ہے

واضح رہے کہ شرک کی تیسری قسم “شرک فی الصفات ” کا بغور سمجھنا انتہائی ضروری ہے شرک فی الصفات کی تعریف یہ بیان ہوئی کہ جیسی صفات اللّہ تعالی کی ہیں ایسی ہی صفات کسی اور کی تصور کرنا شرک فی الصفات ہے

آئیں ہم شرک فی الصفات  کو قرآن مجید کے اصول کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ نور قرآن کی برکت سے شیطان لعین کے وار سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ شیطان لعین اور اس کے گمراہ ساتھیوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان کسی بھی طرح قرآن کریم کے صحیح اصول کو نہ سمجھ سکیں تاکہ یہ لوگ اپنے اس قول سے (کہ وہ الفاظ جو اللہ تعالی کی صفات کے لیے استعمال ہوئے وہ بندوں کے لیے استعمال کرنا شرک کہلاتا ہے) مسلمان کے دل و دماغ میں اس فتنے کو شرک فی الصفات کا نام دے کر راسخ کرا سکیں حالانکہ قران مجید میں کئی مثالیں موجود ہیں جن میں اللہ تعالی اور اس کے محبوبین کے درمیان بظاہر لفظی شراکت پائی جاتی ہے مگر اس سے شرک لازم نہیں آتا کیونکہ وہ صفات اللہ تعالی کے لیے ذاتی طور پر ہے بندوں میں اللّٰہ تعالی کی عطاء سے پائی جاتی ہیں

 مثال:1

 إنّ اللّٰه بالناس لرؤف رحیم

ترجمہ: بے شک اللّہ تعالی لوگوں پر مہربان رحم والا ہے (پ 2 ؛ البقرہ:143)

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے : لقد جاء کم رسول من أنفسکم عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم

ترجمہ: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے وہ تمہاری بھلائی کی نہایت چاہنے والے ہیں مسلمانوں پر کمال مہربان رحم فرمانے والے ہیں(پ 11 ،التوبۃ: 128)

غور کیجئے ایک طرف فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالی رؤف الرحیم ہے دوسری طرف فرمایا جا رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رؤف الرحیم ہے تو اس سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا کہ ابھی تو یہ آپ نے کہا کہ شرک فی الصفات نام ہے صفات میں برابری کا تو یہ صفات تو ایک جیسی ہو گئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں کوئی برابری نہیں کیونکہ اللہ عزوجل کا رؤف و رحیم ہونا ذاتی طور پر ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رؤف رحیم ہونا اللہ تعالی کی عطا سے ہے جب اللہ تعالی نے انہیں یہ مقام و مرتبہ دیا ہے تو یہ فرق ہو گیا پھر برابری نہ رہی اور جب برابری نہ

رہی تو شرک بھی نہ ہوا

مثال 2

: اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ : اَللّٰه یتوفّی الأنفس حین موتھا

ترجمہ:* اللّٰہ تعالیٰ جانوں کو وفات دیتا ہے ،انکی موت

کے وقت

 (پ 24 :الزمر:42)

جبکہ قران کریم میں ہی ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے : قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون

ترجمہ: اے حبیب آپ فرما دیجئے کہ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ ، جو تم پر مقرر ہے ، پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (پ:21:السجدہ:11(

سوال یہ ہے کہ ایک طرف تو قران مجید فرماتا ہے کہ موت حضرت ملک الموت علیہ السلام دیں گے جبکہ دوسری طرف قران ہی میں بیان ہوتا ہے کہ موت دینے والا اللہ تعالی ہے لیکن درحقیقت دونوں آیتوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں بلکہ یہ بات ہے کہ حقیقی طور پر موت دینے والا تو اللہ تعالی ہی ہے حضرت ملک الموت علیہ السلام اللہ تعالی کی عطاء سے اس کے اذن سے یہ کام کرتے ہیں

آئیں اب آپ کو شرک کی حقیقت حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دیکھاتے ہیں

: حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ  تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :وإنی واللّٰه! ما أخاف  علیکم أن تشرکوا بعدی(صحیح بخاری : کتاب الجناںٔز)

ترجمہ: خدا کی قسم مجھے تم پر یہ اندیشہ نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے

علماء اسلام نے اس حدیث پاک کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ آپ  علیہ الصلوۃ والسلام کی امت شرک پر جمع نہیں ہوگی اللہ تعالی نے اس امت کو شرک سے محفوظ رکھا ہے لیکن اج کل کے مشرک سازوں نے اس حدیث پاک کے خلاف امت مسلمہ کی اکثریت کو مشرک قرار دینے کا مکروہ دھندا اپنا رکھا ہے

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرضوان کہ والد محترم علامہ مولانا نقی علی خان رحمت اللہ تعالی علیہ

اپنی کتاب اصول الرشاد میں شرک کے

متعلق فرماتے ہیں

اسی بنا پر شرک کو توحید کا ضد کہتے ہیں اور جس امر کا اثبات کلمہ توحید میں ماخوذ نہیں گو غیر کے لیے ثابت نہ ہو ، شرک سے خارج سمجھتے ہیں تو  جو شخص ورائے الوہیت ولزومات الوہیت کو غیر کے لیے ماننا شرک کے مصطلح قرار دیتا ہے قطعا معنی شرک سے ذہول اور مضمون کلمہ طیبہ لا اله إلا الله سے غفلت کرتا ہے ہاں شرک کبھی مطلق کفر وطیرہ وریا وغیرھما

معاصی میں بھی مستعمل ہوتا ہےمگرہماری بحث سے خارج کہ کلام قسم کفرمیں ھےجس کے احکام دیگر اقسامِ کفر سے مانند حرمتِ نکاح و ذبیحہ کے مغایر ہیں بلکہ عندالتعمّق  یہ اطلاقات برسبیل تجوّز ہیں اور یہ معنی مجازاتِ شرعیہ کے عدم تبادر،ان کا عندالاطلاق اس پرکھلا  قرینہ ، حقیقتِ شریعہ وہی ہے کہ بلا قرینہ مجرد اطلاقِ لفظ سے  متبادر ہوتا ہے تو اس معنی پر اطلاقِ شرک کسی صفت و فعل کی وجہ سےجب تک الوہیت کااثبات لازم نہ آئے صحیح نہیں۔

مثلا کوئی جاہل کسی کامل کی نسبت اولیاءِ امت سے اعتقاد کرے کہ وہ سب زمین کا حال ہر وقت وہرآن یکساں جانتا ہے اور جو اسے جس وقت جس جگہ سے پکارتا ہے فورا سن لیتا ہے توگو یہ عقیدہ غیر ثابت ہو،لیکن اگر اس کے ساتھ اسے علم و قدرت میں مستقل نہیں جانتا اور یہ سب خدا کے اعلام و اقتدار سے سمجھتا ہے اور نہ اسے واجب الوجود و مستحق  معبودیت اعتقاد کرتا ہے تو اس قدر عقیدہ سے مشرک نہ ہوگا

 یہ تھی مختصر سی شرک کے حوالے سے گفتگو اللہ تعالی ہمیں شرک سے محفوظ رکھے

آمین

از: حافظ محمد حسین قادری

متعلم درجہ سادسہ

حبیبہ اسلامک اکیڈمی

Related

No results found.
keyboard_arrow_up