ذاتِ باری تعالیٰ اور صفات باری تعالیٰ کی وضاحت
عقیدہ: اللّٰہ تعالیٰ کی صفات نہ مخلوق ہیں اور نہ اس کی قدرت کے تحت داخل (الفقه الاکبر و المعتقد المنتقد)
اللّٰہ تعالیٰ کی صفات نہ عین ذاتِ باری تعالیٰ ہے (اس طور پر کہ ذات و صفات مفہوم و معنی کے اعتبار سے بالکل ایک ہی چیز ہوں، ایسا نہیں) کیونکہ صفات الہٰی ذاتِ الٰہی پر زائد ہوتی ہیں ، بس بالکل ایک نہ ہوئیں لہذا صفات باری تعالیٰ ذات باری تعالیٰ کا عین نہ ہوئیں ۔اسی طرح صفات باری تعالیٰ ذات باری تعالٰی کا غیر بھی نہیں (یعنی صفات ذات سے جدا نہیں)
صفات تو ذات کے بغیر اس لیے نہیں پائی جاسکتیں کہ صفات ذات کے تابع ہوتی ہیں اور تابع متبوع کے بغیر موجود نہیں ہوسکتا اور ذات باری تعالٰی اپنی صفات کے بغیر اس لیے نہیں پائی جاتی کہ اس صورت میں ذاتِ باری تعالیٰ کا صفات کمال کے بغیر ہونا لازم آۓ گااور یہ محال ہے ، لہٰذا صفات باری تعالیٰ ذات باری تعالٰی کا غیر نہ ہوئیں مختصراً اس عقیدے کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ”صفات باری تعالیٰ نہ عین ذاتِ ہیں اور نہ غیر ذات۔
ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک”ہر عاقل و بالغ یہ اعتقاد نہ رکھے کہ حق تعالیٰ موجود ھےاور اپنی ذات میں قدیم، بیحد و حدود ھے اور اسکا کوئی مکان و جہت نہیں”(کشف المحجوب)
جیسے ارشاد باری تعالیٰ:”کوئی شۓ اس کی مثل نہیں وہی سننے دیکھنے والا ہے “(الشوری:11)
اور صفات باری تعالیٰ کی معرفت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک “ہر عاقل بالغ یہ اعتقاد نہ رکھے کہ اس کی تمام صفتیں اسی کے ساتھ مطلوب ہے (یعنی اس کی صفات نہ اس کی ذات ہیں اور نہ ہی اس کا غیر ،وہ اپنی صفات کے ساتھ دائم ھے )”
جیسے ارشاد باری تعالیٰ:”اس کا کلام سچا ہے “(الانعام:73)
وماعلینا الاالبلاغ المبین
از : حافظ محمد حسین قادری
درجہ سادسہ
حبیبیہ اسلامک اکیڈمی

