استاد ایک مربی ایک معمار

استاد، وہ عظیم شخصیت ہے جس کی بدولت انسان جہالت کی تاریکی سے نکل کر علم و شعور کی روشنی میں آتا ہے۔ استاد، وہ رہنما ہے جو ہمیں زندگی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، جو ہماری عقل کو جلا بخشتا ہے اور ہمارے کردار کو سنوارتا ہے۔ استاد صرف علم کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اخلاق، تہذیب، اور روحانی تربیت کا سرچشمہ بھی ہوتا ہے۔ دین اسلام نے استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا ہے اور اس کے ادب و احترام کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔

استاد کا مقام اسلام کی نظر میں

اسلام نے استاد کو بہت بلند مقام عطا فرمایا ہے۔ قرآن و سنت میں جابجا تعلیم، معلم، اور شاگردی کے آداب کا ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> “إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا”

(یقیناً مجھے معلم (استاد) بنا کر بھیجا گیا ہے)

— سنن ابن ماجہ

اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:

> “جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا، میں اس کا غلام ہوں، چاہے وہ مجھے بیچ دے، آزاد کر دے یا غلام بنا کر رکھے۔”

یہ قول اس بات کی واضح دلیل ہے کہ استاد کا حق کس قدر عظیم ہے۔

ادبِ استاد کے اثرات

جو طلبہ اپنے اساتذہ کا ادب کرتے ہیں، ان کے علم میں برکت ہوتی ہے، ان کا دل نرم، زبان شیریں اور اخلاق عمدہ ہوتا ہے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتی ہے، کیونکہ وہ اپنے محسن کے احترام میں اللہ کی رضا تلاش کرتے ہیں۔

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ، اپنے استاد امام مالک کے سامنے ایسے مؤدب بیٹھتے کہ گویا ایک شاگرد نہیں بلکہ ایک غلام ہو۔ آپ فرمایا کرتے:

> “میں کبھی استاد کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا، اور نہ ہی ان کے سائے میں بیٹھتا تھا۔”

ادب کی عملی مثالیں

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، استاد حماد بن ابی سلیمان کے گھر کی طرف پاؤں کر کے سونا بھی گوارا نہ کرتے تھے، حالانکہ آپ کا اپنا گھر کئی گلیوں کے فاصلے پر تھا۔

شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“میں نے اپنے استاد کے جوتے صاف کرنے میں عزت محسوس کی، اور اللہ نے مجھے دنیا میں عزت دی۔”

آج کے دور میں استاد کا مقام

بدقسمتی سے آج کے جدید دور میں استاد کا مقام دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور آزادیِ رائے کے نام پر استادوں کی تضحیک کی جا رہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم نوجوان نسل کو استاد کے ادب و احترام کی تعلیم دیں تاکہ معاشرہ دوبارہ علم و ادب کا گہوارہ بن سکے۔

شاگرد کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟

  1. استاد کے سامنے خاموشی سے بیٹھنا۔
  1. سوال ادب سے کرنا۔
  1. استاد کی غیر موجودگی میں بھی ان کے بارے میں ادب سے بات کرنا۔
  1. ان کے حکم پر عمل کرنا۔
  1. ان کی عزت دل سے کرنا، نہ صرف ظاہری طور پر۔

ادب استاد = ترقی یافتہ قوم

جس قوم کے نوجوان استادوں کا ادب کرتے ہیں، وہ قوم زوال کا شکار نہیں ہوتی۔ جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی استادوں کو سب سے زیادہ قابلِ احترام شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

اختتامیہ

استاد کا ادب دراصل علم کا ادب ہے، علم کا ادب دراصل رب کا ادب ہے۔ جو طالب علم استاد کا احترام کرتا ہے، وہ زندگی میں کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسل کامیاب ہو، ہمارے معاشرے میں تہذیب ہو، اور ہمارے دلوں میں نور ہو، تو ہمیں استاد کے ادب کو اپنے کردار کا حصہ بنانا ہو گا۔

ایک پیغام

یاد رکھیں!

استاد صرف نصاب پڑھانے والا فرد نہیں، بلکہ ایک مربی، ایک رہنما، اور ہماری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔

اگر ماں باپ جسمانی زندگی دیتے ہیں تو استاد روحانی زندگی عطا کرتا ہے۔

بالکل! ذیل میں میں آپ کو “استاد کے ادب و احترام” کے موضوع پر مزید قیمتی، ناصحانہ، اسلامی اور تاریخی نکات پر مشتمل مواد دے رہا ہوں، جسے آپ موجودہ فائل میں شامل کر کے اسے اور بھی جامع اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔

🔹 مزید مواد: استاد کے ادب و احترام پر

  1. استاد کی تربیت والدین کی تربیت کے بعد سب سے اہم

استاد صرف علم نہیں دیتا بلکہ تربیت کرتا ہے۔ استاد کی شخصیت، اس کی گفتار، کردار اور عمل سے شاگرد سیکھتا ہے۔ نیک استاد ایک نسل کو سنوار دیتا ہے۔

یاد رکھیے:

> “اگر ایک ماں دس بچوں کو پال سکتی ہے، تو ایک استاد ہزاروں بچوں کو سنوار سکتا ہے۔”

  1. قرآن و سنت میں معلمین کے لیے بشارتیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> “يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ”

(اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا)

— سورۃ المجادلۃ: 11

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> “سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں۔”

— صحیح بخاری

  1. استاد کی توہین کا انجام

جو قومیں استاد کا ادب نہیں کرتیں، وہ نہ صرف علم کی برکت سے محروم ہو جاتی ہیں بلکہ ان کی ترقی کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

> “علم حاصل کرنا فرض ہے، لیکن استاد کا ادب کرنا علم کے حاصل ہونے کی شرط ہے۔”

  1. ہمارے اکابرین کا عمل

امام مالک رحمہ اللہ: جب درس دینے بیٹھتے تو نہایت خوشبو لگاتے، عمدہ لباس پہنتے اور ادب سے بیٹھتے، اور کہتے:

> “یہ حدیثِ رسول ﷺ کا ادب ہے۔”

حضرت رابعہ بصریہ نے ایک بار اپنے استاد کا پانی کا پیالہ زمین پر نہ رکھنے دیا کہ یہ استاد کی بے ادبی ہے۔

  1. جدید دور کا چیلنج اور حل

ڈیجیٹل دور میں بچے علم حاصل کر رہے ہیں لیکن استاد کی قدردانی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی علم کا ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن استاد کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔

حل یہی ہے کہ:

بچوں کو چھوٹی عمر سے استاد کے احترام کی تربیت دی جائے۔

اسکولوں و مدارس میں آدابِ طالبعلمی کے اسباق شامل کیے جائیں۔

  1. والدین اور معاشرے کی ذمہ داری

والدین خود استادوں کا ادب کریں تاکہ ان کے بچے سیکھیں۔ معاشرہ استادوں کی عزت کو فروغ دے۔ تعلیمی ادارے اساتذہ کو عزت دیں تاکہ وہ اخلاص سے پڑھائیں۔

📜 ناصحانہ اشعار:

1.

استاد کی عزت کرو اے جوانو!

اسی کی بدولت ہیں روشن زمانے

2.

جو جھکتا ہے استاد کے آگے دل سے

وہی بنتا ہے کل کا رہبر واقعی

3.

سفرِ علم کا آغاز ادب سے ہوتا ہے

بے ادب راہ میں ہی گم ہو جاتا ہے

✅ خلاصہ

استاد کا ادب، علم کا دروازہ ہے۔ استاد کا احترام، اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔ جو قومیں استادوں کی قدر کرتی ہیں، وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتی ہیں بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہوتی ہیں۔

📚 مزید اہم نکات: استاد کے ادب و احترام

  1. استاد کا مقام احادیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

> “علم حاصل کرو اور اس کے لیے سکون و وقار اختیار کرو، اور جس سے سیکھو اس کا ادب کرو۔”

— شعب الایمان

یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ علم کے ساتھ ساتھ استاد کا ادب بھی علم کا حصہ ہے۔

  1. استاد کی بے ادبی کے نقصانات

دل سے علم کا نور ختم ہو جاتا ہے۔

سیکھا ہوا علم فائدہ نہیں دیتا۔

زبان و عمل میں بے برکتی آ جاتی ہے۔

اللہ کی ناراضی مول لی جاتی ہے۔

مثال:

ایک طالب علم نے اپنے استاد سے گستاخی کی۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ طالب علم ذہنی دباؤ، علمی زوال اور معاشرتی تنگی کا شکار ہو گیا۔

  1. استاد کے بغیر علم بے معنی

جیسے بغیر چراغ کے اندھیری رات میں سفر کرنا خطرناک ہوتا ہے، ویسے ہی بغیر استاد کے علم حاصل کرنا گمراہی کا باعث بن سکتا ہے۔

قول:

> “من كان شيخه كتابه، كان خطؤه أكثر من صوابه”

“جس کا استاد صرف کتاب ہو، اس کی غلطیاں اس کی درست باتوں سے زیادہ ہوں گی۔”

  1. استاد کے ادب کے عملی آداب

استاد کو سلام میں پہل کرنا۔

ان کی بات نہ کاٹنا۔

ان کی موجودگی میں بلند آواز سے بات نہ کرنا۔

ان کے سامنے موبائل وغیرہ کا استعمال نہ کرنا۔

ان کے چہرے کو بغور اور محبت سے دیکھنا، کیونکہ یہ برکت کا ذریعہ ہے۔

🌟 تاریخی واقعات

حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

آپ اپنے اساتذہ کے لیے کئی میل پیدل چل کر جایا کرتے اور اکثر اوقات ان کی باتوں کو کاغذ پر لکھ کر یاد کرتے۔ کہتے تھے:

> “استاد کی زبان سے نکلا ہوا لفظ بھی علم ہوتا ہے، اس لیے ہر بات لکھنے کے قابل ہے۔”

امام شافعی رحمہ اللہ کا ادب

استاد امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے کتاب بھی نہیں پلٹاتے تھے کہ آواز سے استاد کو تکلیف نہ ہو۔

🕊️ سادہ مگر پراثر نصیحت

> “جس دل میں استاد کی عزت ہوتی ہے، وہاں حسد، نفرت اور بربادی داخل نہیں ہو سکتی۔”

Related

No results found.
keyboard_arrow_up