علمائے عرب کے خدمت میں ایک گلدستہ روح افزا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(یہ تحریر دارالملک کے آفیشل پیج پر شائع ہوئی ہے اور ہمارے حساب سے اس تحریر میں اردو ادب کی ندرت کاحسین جلوہ نظر آ رہا ہے اردو ادب کی چاشنی کو مزید پھیلانے کی غرض سے ہم اس تحریر کو مکرر شائع کر رہے ہیں۔اور یہ تحریر ان ادیبوں کا  جواب ہے جو کہتے ہیں کہ مذہبی ذہن رکھنے والے لوگ اچھا ادب نہیں لکھ سکتے۔ وہ اس تحریر کو ملاحظہ فرمائیں کہ عورت شباب و کباب کے علاوہ بھی۔۔۔۔ عورت شباب و کباب سے دور رہ کر بھی اچھی تحریر لکھی جا سکتی ہے اور خوبصورت حسین پیرائے میں لکھی جا سکتی ہے۔ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 سیدی حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی ذاتِ بابرکات، جامع کمالات ومجموع الصفات ہے، آپ کے علمی جاہ وجلال والے قلم کا طرز استدلال وقوت استدلال بے مثال اور تحقیقات جلیلہ وتدقیقات انیقہ خالی از قیل وقال ہیں. آپ کی بے نظیر شخصیت کے نام لیوا فقیر کے نزدیک دو قسم کے ہیں:

ایک وہ جو محض تفریح طبع یا وقت گزاری کے لیے لیتے ہیں اور آپ کے نام کے ساتھ معانقہ کرتے ہوئے نہ تو کسی قسم کی دشواری میں مبتلا ہونا چاہتے ہیں اور نہ ہی شاید وہ اس کے اہل ہوتے ہیں.

دوسرے وہ ہوتے ہیں جو آپ کے مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے نام وذات کے ساتھ آپ کے مسلک کو فروغ دینے کی نیت سے سنجیدگی کے ساتھ معانقہ کرتے ہیں، اس لیے کہ مسلک وملت کی خدمات ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں.

اسی دوسری قسم سے عالمی ادارے دار المَلِک کا گہرا رشتہ ہے، جس نے مختصر سی مدت میں لائق صد تحسین اور قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں، اور یہ صرف شعبہ نشر واشاعت سے موسوم نہیں’  بلکہ ایک مقصد ہے، جس کی منصوبہ بند تعلیمات سیدی اعلی حضرت علیہ کے مطابق ہوئی ہے، آپ کا مندرجہ ذیل فرمان اس ادارے کے اساسی دستور کا جزء غیر منفک ہے، آپ فرماتے ہیں: ان شاء اللہ العزیز زمانہ ان بندگانِ خدا سے خالی نہ ہوگا جو مشکل کی تسہیل، معضل کی تحصیل، صعب کی تذلیل، مجمل کی تفصیل کے ماہر ہوں. بحر سے صدف سے ،صدف سے گوہر، بذر سے درخت، درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اللہ تعالی قادر ہوں (“فتاوی رضویہ: ج:٨، ص:٢٥١، امام احمد رضا اکیڈمی)

اس ادارے میں متنوع شعبہ جات ہیں، جہاں مختلف علوم وفنون کے کہنہ مشق ماہرین اپنی قیمتی تحقیقی خدمات پیش کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں. انہیں میں ایک شعبہ #مجمعــالإمام_أحمد_رضا_للبحوث_والدراسات_الإسلامية ہے، اس شعبہ نے ادارے کی وقعت میں چار چاند لگا دیے ہیں اور اہلِ دل کی نگاہ میں اسے ایک منفرد حسن وگلکاری عطا کی ہے.

 سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ہمہ گیر شخصیت کے تبحرِ علمی، وسعتِ فکر و نظر اور مختلف جہات پر متعدد پہلوؤں سے تحقیق وتصنیف کا کام ہوا، اور بے شمار خوشہ چینوں نے اپنے گلستان قرطاس کو آپ کے گلہائے رنگا رنگ سے معطر کیا۔ لیکن یہ امر نہایت تعجب خیز ہے کہ علماے عرب کے مابین آپ کی بیش بہا تصنیفات و تالیفات نہ تو شائع ہو سکیں اور نہ ہی ان کا تعارف عام ہوا. ایک طرف سیدی اعلی حضرت کا والہانہ انداز میں تذکرہ، اور دوسری طرف آپ کے علمی سرمایہ کی اشاعت سے بے اعتنائی، محبینِ اعلی حضرت کے لیے باعثِ استعجاب ہے. #دارالمَلِک نے اس علمی تشنگی کو دور کرنے کا عزم بالجزم کیا؛ تاکہ سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق ہونے والی کوتاہی اور غفلت کی تلافی کی جا سکے، اور آپ کی عالمانہ، محققانہ، مجددانہ، مجتہدانہ میراث کو عالمِ عرب تک پہنچایا جائے، اس طرح ایک دیرینہ قرض جو تاحال باقی تھا، #دارالمَلِک نے اس کے ادائیگی کا بیڑا اٹھایا. شاید ازل ہی سے اس خدمتِ جلیلہ کی ذمہ داری #دارالمَلِک کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی، اور “قرعہ فال بنامِ من دیوانہ زدند” کے مصداق، یہ عظیم بار اسی کے کاندھوں کے لیے منتخب کیا گیا. اسی لیے یہ ادارہ اس علمی خلاء کو پُر کرنے کے لیے ہمہ تن من دھن سرگرم ہے، سیدی اعلی حضرت کی تصانیف و تالیفات کو اہل عرب کے مابین متعارف کرانے اور آپ کے افکار ونظریات کو وہاں کے علمی حلقوں تک پہنچانے میں اپنا دینی فریضہ سمجھ کر شب وروز کوشاں ہے. چنانچہ #دارالملک تاحال دلائل و براہین سے اراستہ، تحقیقِ انیق اور تدقیقِ عمیق سے پیراستہ تقریباً دس رسائل پیش کر چکا ہے، جنہیں علمائے عرب نے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور عوام و خواص نے پسند کیا. رضویات کے حوالے سے مصر و دیگر عرب ممالک میں ہونے والے متعدد کاموں میں خواہ وہ مواد کی فراہمی ہو یا تعارف کا معاملہ #دارالملک نے نمایاں کردار ادا کیا ہے. مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ایک تازہ مثال رسالہ «الجهود الكلامية والصوفية للشيخ أحمد رضا خان القادري دراسة نقدية» ہے، جو مصر کی ایک محقّقہ نے ایم اے کے لیے سیدی اعلی حضرت پر تحریر کیا، #دارالملک نے انہیں مطلوبہ مواد فراہم  کرنے کے ساتھ قدم قدم پر ان کی اعانت بھی کی.

بایں ہمہ، رضوی میکدے کے کچھ بادہ خوار ایسے بھی تھے جن کی پیاس تاحال نہ بجھی تھی، لہٰذ ساقی کی عطا کا پیالہ “#مجموع_رسائل_الإمام_أحمد_رضا_خان” کی صورت میں جلوہ گر ہوا. ایک ایسا گراں قدر خزانۂ علم و حکمت اور بے نظیر تحقیقی شاہکار، جو عالمِ اسلام کے لیے نایاب تحفہ ہے. اس کے پسِ پشت نہ کوئی معاوضے کی غرض ہے، نہ نام ونمود یا شہرت و تحسین کی طلب؛ بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ مجددِ اعظم کے سلسلے میں اپنے فرض سے عہدہ برآ ہوں اور عالمِ عرب کو آپ کی تعلیمات سے روشناس کرائیں. ان شاء اللہ یہ شاہکار عالمِ اسلام کے لیے عشق و عرفان کا وہ تاج محل ثابت ہوگا جو محبت کی نشانی تاج محل سے کہیں زیادہ دل آویز اور مستحکم ہے.

 اس علم و عرفان کے تاج محل کی تفصیل یہ ہے کہ اس کی چھ عظیم منزلیں ہیں جنہیں جلدوں کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے. پہلی جلد باب کی صورت میں چار کمروں پر محیط ہے:

 پہلا کمرہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی سیرتِ مبارکہ کے جواہر پاروں سے مزین ہے.

 دوسرا کمرہ آپ کے مشائخ واساتذہ کی معلومات سے آراستہ ہے.

 تیسرا کمرہ آپ کے تلامذہ، خلفاء اور اجازت یافتہ علما کے تذکروں سے لبریز ہے.

 چوتھا کمرہ مختلف علوم و فنون میں آپ کی مہارت، عبقریت اور نادر تحقیقات وتدقیقات کا گنجینہ ہے.

ہر کمرہ اپنے اندر فصلوں کی صورت میں مضبوط ستون اور مباحث کی شکل میں دیدہ زیب دیواریں لیے ہوئے ہے، جنہوں نے اس عمارت کی اہمیت وافادیت میں چار چاند لگانے کا کام کیا ہے.

 دوسری منزل یعنی جلد میں دو مضبوط فصلوں کے ستون قائم ہیں؛ پہلا ستون فنِّ تفسیر میں آپ کی تحقیقات و توجیہات کے تابناک موتیوں سے جگمگا رہا ہے، جبکہ دوسرا ستون الفاظِ قرآن کے معانی ومطالب کی خوشبو سے معطر ہے. ہر ستون کے اندر متعدد علمی و فکری مباحث کی دیواریں کھڑی ہیں، جن پر تحقیق و تدقیق کے نفیس نقش و نگار کندہ ہیں.

 تیسری منزل یعنی جلد سات فصلوں کے ستونوں پر قائم ہے، ہر ستون اپنی ساخت میں منفرد اور اپنے مضمون میں وقیع ہے. پہلا ستون: حدیث کے معنی ومفہوم، تاریخِ تدوین اور اس کے مراحل، حدیث و اثر میں فرق، برصغیر کے جلیل القدر محدثین اور علمِ حدیث میں ان کی خدمات، سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ان سے اجازت اور آپ کی خدمات پر مشتمل ہے. دوسرا ستون: علمِ حدیث میں آپ کی تصانیفِ جلیلہ کا تعارف لیے ہوئے ہے. تیسرا ستون: علمِ درایت پر قائم ہے. چوتھا ستون: علمِ روایت پر مشتمل ہے.

 پانچواں ستون: اصولِ حدیث میں آپ کی مہارتِ تامہ کا مظہر ہے. چھٹا ستون: احادیثِ مختلفہ میں آپ کے موقف کی توضیح پر مبنی ہے. اور ساتواں ستون: علومِ حدیث میں آپ کی عبقریت اور کمالات کا بیان اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے. ان ستونوں میں سموئے ہوئے مباحث کی دیواریں نایاب علمی خزانے کی الماریاں اپنے اندر جمع کیے ہوئے ہے.

 چوتھی منزل تین کمروں پر مشتمل ہے. پہلا کمرہ: سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے عقائد و نظریات اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح سے معمور ہے. دوسرا کمرہ: امتِ مسلمہ کی سیاسی اصلاح اور اس حوالے سے آپ کی رہنمائی سے مزین ہے. تیسرا کمرہ: آپ کے معاشی افکار ونظریات، اسلامی تجارت وبینکاری میں آپ کی وقیع تحقیقات، اور مسلمانوں کے اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کی تدابیر پر مشتمل ہے. اس کے مؤلف مایہ ناز محقق ڈاکٹر انوار احمد بغدادی ہیں، جنہوں نے اسے بڑی عرق ریزی اور نہایت دل نشین اسلوب سے تالیف کیا ہے.

 پانچویں منزل ایک دلکش گلستان کی مانند ہے، جس کے تین حسین و جمیل صحن ہیں، اور ہر صحن اپنی ساخت، حسن اور معنویت میں نرالا ہے. پہلا صحن: افتتاحی خطبات کے خوشبو بھرے پھولوں سے آراستہ ہے، ہر پھول اپنی رعنائی اور نکہت میں اپنی مثال آپ ہے.

 دوسرا صحن: اسانید و طرق کی بہاروں سے مہکا ہوا ہے، جو چار مضبوط ستونوں پر قائم ہے: پہلا ستون: فقہ میں اسانید و طرق، دوسرا ستون: حدیث میں اسانید و طرق، تیسرا ستون: مصافحات کے سلسلے، چوتھا ستون: سلاسلِ صوفیہ میں اسانید وطرق.

 تیسرا صحن: اجازات ومرویات کے نایاب خزینے سے مزین ہے، جس کے دو کشادہ کمروں میں علمی جواہر سجے ہوئے ہیں: پہلا کمرہ: علماء عرب کو دی گئی اجازات پر مشتمل ہے،  دوسرا کمرہ: علماءِ ہند کو عطا کی گئی اجازات کا مرکز ہے، دونوں پندرہ دقیق مباحث پر مشتمل ہیں، اور ہر بحث اپنی معنوی عظمت میں ایک قیمتی پتھر کی مانند ہے.

سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فقہ وافتا اور ان کے اصول کو جلا بخشی ہے، آپ نے مسلک حنفیت کو اردو عربی میں اپنی کتب ورسائل وفتاوی کے ذریعے ایسا منقح فرمایا کہ آنے والے کئی صدی تک کے لیے احناف کو رسم افتا اور فقہ واصول کے اکثر ابواب کے حل سے بےنیاز کر دیا. چھٹی منزل میں ایسے ہی قیمتی کمروں کی ایک قطار ہے، جو فقہ و افتا کے اصولی جواہر سے آراستہ ہیں اور اقوالِ سلف کے استقصاء، احتمالِ شقوق کے استیعاب، اور ضوابطِ کلیہ جیسی آہنی دیواروں میں محفوظ ہے. ان کمروں کی چھتوں سے دلائل کی خوشبو پھوٹتی ہے، اور دیواروں پر علمی انوار و تجلیات کی ایسی نقش و نگار ہیں کہ ماہرین حیرت زدہ اور حاسدین انگشت بدنداں رہ جائیں. ہر کونے میں ایک ایسا لعل جڑا ہے جس کے پیچھے نہ جانے کتنے کوہِ نور قربان ہیں، اور جس کی پہچان کسی ماہر جوہر شناس ہی کو ہوسکتی ہے، جبکہ ہمیں تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے. پھر بھی جرات کرتے ہیں؛

 پہلا کمرہ: ایک نادر و نایاب کان ہے، جس کا نام أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقا على قول الإمام ہے، اس میں قول امام پر فتوی دینے کے ایسے انمول ہیروں کی قطاریں ہیں جن کی مثال تقریباً نایاب ہے.

 دوسرا کمرہ: بیش بہا اصولی موتیوں کی کان جلي النص في أماكن الرخص ہے، اس میں مقاماتِ رخصت میں واضح نصوص کے جواہر ہیں، اور ہر گوہر ایک فقہی مسئلے کی کنجی ہے.

 تیسرا کمرہ: جو سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے فیوض وبرکات کی کان ہے، وہ الفضل الموهبی في معنى إذا صحّ الحديث فهو مذهبي کے عنوان سے جگمگا رہا ہے. یہ اپنے اندر امامِ اعظم ابو حنیفہ کے اس مشہور فرمان: “جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے” کے نورانی جلوے بسائے ہوئے ہے.

یہ تینوں کمرے ایک ہی حسین ستون سے جڑے ہیں، وہ ستون اعلی حضرت کی اصولی بصیرت، استنباطی مہارت اور ضابطے سازی کا مجموعہ ہے.

 اس مختصر سی مدت میں چھ منزلوں پر مشتمل یہ عظیم الشان تاج محل کا معرضِ وجود میں آ جانا یقیناً سیدی حضور اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- کے فیوض و برکات کا صدقہ ہے، ورنہ اس میدان کے شہسوار خوب جانتے ہیں کہ تحقیق کا میدان  وہ بھی عربی زبان میں کس قدر وسیع اور جفا کش ہے، بالخصوص دینیات میں اور وہ بھی مسلکِ اعلی حضرت کے آب و تاب کے ساتھ. مزید برآں موجودہ پر فتن دور میں، جب ہر طرف فکری یلغار اور فتنہ سامانی کا سیلاب رواں ہے، ایسے حالات میں بانیِ دار الملک، مولانا شیراز احمد نظامی ازہری اور ان کے رفقاء نے ان تمام رکاوٹوں کی پرواہ کیے بغیر جس عزم و استقلال اور جس بلند فکری شان کے ساتھ یہ کارنامہ انجام دیا ہے، وہ نہ صرف لائق تقلید ہے بلکہ تحسین و ستائش کے اعلیٰ ترین مراتب کا مستحق بھی ہے.

ان شاء اللہ! علمائے کرام کے توسط سے درِ رضا میں اسی طرح حاضری جاری رہی تو یہ چھ منزلہ عمارت بہت جلد تیس منزلوں بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ کی رفعتوں کو چھو لے گی، کیونکہ یہ کوئی کاغذ کے پھول نہیں، جو خوشبو کے جامہ سے محروم ہوں، اور نہ ہی کچی مٹی پراگنے والے وہ لالہ زار ہیں جن کے نازک چہرے خزاں کی پہلی تپش ہی سے مرجھا جائیں، بلکہ یہ تو مصنف اعظم، مجدد اعظم کی صورت میں خدا رسیدہ بزرگ یعنی سیدی و مرشدی، حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی تصنیفات وتالیفات کو عام کرنے کے تذکروں کا سدا بہار گلشن ہے، جس میں خزاؤں کو بہار میں بدل دینے کی قدرت ہے، اور یہ عشق و فکر کا وہ ابدی چراغ ہے جس میں تہ بہ تہ پھیلی تاریکیوں کو چیر کر اجالوں سے بھر دینے کی طاقت ہے ، ساتھ ہی جہاں قدم رکھے وہاں افق در افق نور ہی نور پھیلا دے. انہیں کی نسبت و برکت سے یہ علمی و فکری تاج محل عنقریب تیس منزلوں کی عظمت کو پہنچے گا، اور عالمِ عرب بلکہ پورے عالم اسلام میں اپنی نوعیت کا پہلا لازوال عجوبہ شمار ہوگا. اللہ تعالیٰ دارین کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے. آمین ثم آمین.

Related

No results found.
keyboard_arrow_up