پتنگ اڑانا، لڑانا، لوٹنا، ڈور اور مانجھا وغیرہ بیچنے کا حکم؟
پتنگ اڑانا اور لڑانا
امام اہل سنت فرماتے ہیں: کنکیا (پتنگ) اڑانا منع ہے اور لڑانا گناہ۔
(رضویہ ٢٤/٦٦١)
پتنگ بازی اور آلات پتنگ بیچنا
امام اہل سنت فرماتے ہیں: کنکیّا (پتنگ) اڑانے میں وقت (اور) مال کا ضائع کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیّا (پتنگ)، ڈور بیچنا بھی منع ہے احتراز کریں۔ (رضوية ٢٤/٦٦٠)
پتنگ لوٹنے کا حکم اور خود گرے تو کیا کرے؟
امام اہل سنت فرماتے ہیں: کنکیا (پتنگ) لُوٹنا حرام، اور خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے، اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دے دے کہ وہ کسی جائز کام میں صَرف کرلے، اور خود مسکین ہو تو اپنے صرف میں لائے، پھر جب معلوم ہو کہ فلاں مسلم کی ہے اور وہ اس تصدق یا اس مسکین کے اپنے پر راضی نہ ہو تو دینی آئے گی اور کنکیا کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں۔ (رضوية ٢٤/٦٦١)
پتنگ اُڑانے کے بہت زیادہ نقصانات ہیں۔ اِس کی ڈور سے کئی لوگ زخمی ہو جاتے ہیں اور کئی لوگوں کی گَردنیں تک کٹ کر جان بھی چلی جاتى ہیں۔ لہذا پتنگ اڑانے، لڑانے اور الات پتنگ بیچنے سے لازمی طور بچنا چاہیے۔
ابو الحسن محمد شعیب خان
24 مارچ 2024

