یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر میدان کے ماہرین اپنی فنی بصیرت اور تجربے کے اعتبار سے فیصلہ سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی مفہوم کو عربی محاورے “لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ” (ہر فن کے لیے اس کے ماہرین ہوتے ہیں) میں سمویا گیا ہے۔

اسلامی ریاست یا دینی تحریک کے انتظامی ڈھانچے میں جب عملی فیصلوں یا تنظیمی امور پر غور کیا جائے تو اہلِ فن و اہلِ تجربہ کی آراء کو نظر انداز کرنا حکمت کے خلاف ہے۔

امام اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کا اصولی بیان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “امورِ انتظامیہ جن میں شرعِ مطہر کی جانب سے کوئی تحدید نہ ہو، ان میں کثرتِ رائے کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اس میں ہر ذی رائے مسلمان سنی کی رائے معتبر ہوگی، اگرچہ وہ عالم نہ ہو، کیونکہ معاملہ شرعیات سے نہیں بلکہ دنیوی انتظامات سے متعلق ہے۔ بلکہ اکثر تجربہ کار کم علموں کی رائے کسی ناتجربہ کار ذی علم کی رائے سے زیادہ صائب ہوتی ہے۔”

(الفتاویٰ الرضویہ، ج 16، ص 45)

یہ قول نہایت جامع ہے، جس سے دو اہم اصول سامنے آتے ہیں:

  1. دنیوی و انتظامی امور میں ماہرین کی رائے معتبر ہے۔
  1. ہر فیصلہ شرعی فتوے کا متقاضی نہیں، بلکہ تجربہ و تدبیر کا محتاج ہوتا ہے۔

حدیث میں بھی اس اصول کی تائید موجود ہے:أَنتُم أَعلَمُ بِأُمُورِ دُنیَاکُم”

(تم اپنے دنیوی معاملات کو بہتر جانتے ہو۔)

اسی انتظامی اہلیت کو کے متعلق مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: “حکومت کے لیے اسلامی سیاست دانی ضروری ہے۔”

(مرآة المناجیح، شرحِ مشکوٰۃ، )

یہاں واضح کیا گیا کہ سیاست یا نظامِ حکومت چلانے کے لیے صرف تقویٰ کافی نہیں، بلکہ علمِ سیاست اور عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔

چنانچہ محض عبادت و زہد کی بنیاد پر سیاسی یا انتظامی ذمہ داریاں دینا غیر دانشمندانہ عمل ہوگا۔

مزید فرماتے ہیں: “یہ حدیث اس بات کی بڑی دلیل ہے کہ نا اہل کو حکومت میں دخل نہیں دینا چاہیے، اگرچہ وہ کتنا ہی متقی کیوں نہ ہو۔”

(مرآة المناجیح)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی نظریۂ حکومت میں اہلیت (Competence) اور تجربہ (Experience) بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔

آج کے دور میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مذہبی وابستگی یا شخصی عقیدت کو اہلیت پر ترجیح دی جاتی ہے، جو کہ شرعی اور عقلی لحاظ سے درست نہیں۔ اسلامی تعلیمات اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ ہر شعبہ اپنے ماہرین کے سپرد کیا جائے، تاکہ فیصلے علم، تجربے اور مشاورت کی بنیاد پر ہوں۔

اسی طرزِ عمل سے نظامِ حکومت میں استحکام، عدل اور ترقی ممکن ہے۔

لہذا دینی و دنیاوی نظام کی کامیابی کے لیے اہلِ فن اور ماہرین سے مشاورت ناگزیر ہے۔

شریعت نے جہاں واضح احکام دیے ہیں وہاں ان کی پابندی لازم ہے، مگر انتظامی معاملات میں کثرتِ رائے اور تجربہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے۔

اہلِ تقویٰ اگر فہمِ سیاست و نظام نہیں رکھتے تو انہیں حکومتی یا تنظیمی قیادت نہیں سونپی جانی چاہیے۔

ابو الحسن

Related

No results found.
keyboard_arrow_up