*اللّٰہ تعالٰی فاعل مختار ہے یا فاعل موجب مع أرادہ

عقیدہ ؛ *اللّٰہ تعالٰی فاعل مختار ہےاس کا فعل نہ کسی مرجّح کا دست نگر نہ کسی استعداد کا پابند*

دلیل: اس کی دلیل یہ ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

: *یفعل اللّٰہ مایشاء*

ترجمہ : اللّٰہ تعالٰی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے

دوسری دلیل:

*فعّال لّما یرید*

ترجمہ :

جو چاہے کرنے والا ہے

اس آیت کی تفسیر میں علامہ احمد بن محمد الصاوی المالکی جنہوں نے اپنی کتاب *حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین* میں لکھتیں ہیں کہ :

*ولا یجب علیہ شیٔ ، لأن أفعالہ بحسب إرادتہ*

ترجمہ: اس پر کچھ واجب نہیں ، بیشک اس کا فعل ارادہ کے ساتھ ہے

 اب آپ لوگوں کو بتاتا چلوں کہ کہ *فاعل مختار اور فاعل موجب  دونوں میں فرق*

فاعل مختار یعنی وہ کام جو اپنی مرضی سے کیے جاۓ بإرادہ، نہ کہ کسی چیز نے مجبور کیا ہو کام کرنےپر

اور فاعل موجب

یعنی وہ کام جو ضروری ہو کرنا ، واجب ہو

نوٹ: *إرادہ قدیم ہے نہ کہ حادث*

*المعتقد المنتقد* میں علامہ فضل رسول بدایونی علیہ رحمۃ نے یہ بات لکھی ہے کہ :* *کہ فعل الٰہی کے ارادے کا معنی یہ ہے کہ وہ نہ مجبور ہے  نہ مغلوب ہے اور نہ بھولے سے وہ کام کرنے والا ہے اور دوسری فعل کے لیے اس کے ارادے کا معنی یہ ہے کہ اس نے فعل کا حکم صادر*

کیا ( المعتقد المنتقد)

فلاسفہ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ: *فلاسفہ اللہ تعالی کو فاعل مختار نہیں مانتے بلکہ فاعل موجب مانتے ہیں کہ اس نے جو کیا ہے اس پر ضروری تھا اور اسے نہ کرنے کا اختیار نہیں تھا* ، اعلیٰ حضرت نے “*الکلمۃ الملھمہ*” میں اسکا ردّ بلیغ کیا ہے اور اپنے استدلال میں وہ تفصیل فرمائی کہ کسی فلسفی کو مجال گفتگو باقی نہ چھوڑی پہلے اسلامی عقیدہ یوں تحریر فرمایا: *اللّہ عزوجل فاعل مختار ہے اس کا فعل نہ کسی مرجّح کا دست نگر نہ کسی استعداد کا پابند یہ مقدمہ نظر ایمانی میں تو آپ ہی ضروری و بدیہی ہے*اور آپ نے وہ آیت ارشاد فرمائی بطور دلیل جو فقیر نے اوپر مقدمے میں ذکرکی کہ

*ترجیح بلا مرجح باطل نہیں ترجح بلا مرجح باطل ہے*:

اللہ تعالی اپنے افعال میں کسی مرجح کا محتاج نہیں بلکہ اس کا ارادہ ہی مرجح ہے جبکہ فلاسفہ کے نزدیک کوئی فاعل دو متساویوں میں اپنی طرف سے ترجیح نہیں پاسکتا کہ اس کی نسبت سب کی طرف برابر ہے اگر خود ترجیح دے توبلا مرجح ہو اور یہ محال ہے

 اس بنیاد کو یوں مشہور کیا کہ ترجیح بلا مرجح باطل اور محال ہے لیکن اعلی حضرت نے باری تعالی کو فاعل مختار ثابت کرنے کے ضمن میں اس بنیاد کو ہی اکھاڑ پھینکا پہلے عام مثالوں سے تفہیم کی، فرمایا :  

*یوں ہی عقل انسانی میں بھی آدمی اپنے ارادے کو دیکھ رہا ہے کہ دو متساویوں میں سے کسی مرجح کے آپ ہی تخصیص کر لیتا ہے دو جام یکسا ایک صورت ایک نظافت کے دونوں میں ایک سا پانی بھرا ہو اس سے ایک قرب پر رکھے ہو یہ پینا چاہیے ان میں سے جسے چاہے اٹھا لے گا

 ایک مطلوب تک دو راستے

بالکل برابر ہو یکساں ہو جسے چاہے گا چلے گا ایک سے دو کپڑے ہوں جسے چاہیں پہنے گا پھر اس فعّال لّما یرید کہ ارادے کا کیا کہنا* (الکلمۃ الملھمہ ، فتاویٰ رضویہ جلد 27 )

پھر *”ترجیح بلا مرجح*” پر کلام یوں فرمایا

” اقول: *یہاں سے ظاہر ہوا کہ محال ترجح بلا مرجّح ہے یعنی دومتساویوں میں سے ایک خود ہی راجح ہو جائے

 یہ یہاں نہیں کہ نفس ارادہ مرجح ہے اور ترجیح بلا مرجح میں مصدر اگر صرف مصدریت پر ہو یا مبنی للفاعل تو ہرگز محال نہیں بداہۃً واقع ہے یہاں مبنی للمفعول ہو تو محال کہ یہ وہی ترجح بلا مرجح

ہے جو کہ محال* (الکلمۃ الملھمہ فتاویٰ رضویہ جلد 27)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالی فاعل مختار ہے یعنی جو وہ کام کرتا ہے اپنی مرضی سے کرتا ہے بارادہ کرتا ہے اس کا فعل نہ کسی مرجح کا دست نگر ہے نہ کسی استعداد کا پابند ہے اس پر کوئی کام ضروری نہیں یعنی اس پر کچھ واجب نہیں جیسے فلاسفہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ سے بالایجاب(بطور اضطرار) صادر ہوگا کہ مومن کو انعام اور کافر کو عذاب دے گا، جبکہ اہلسنت کہتے ہیں اللہ پر کچھ واجب نہیں بلکہ انعام دینا اس کا فضل ہے اور عذاب دینا عدل۔۔۔

اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو اور اللہ تعالی ہمارے عقائد کی حفاظت فرمائے اور دین اسلام کو اللہ تعالی غالب فرمائے

 آمین

 جزاک اللّہ خیراً

از:  *حافظ محمد حسین قادری*

*متعلم حبیبیہ اسلامک اکیڈمی*

Related

No results found.
keyboard_arrow_up