Hadaiq e Bakhshish

Sacchi Baat Sikhate Yeh Hain

Sacchi Baat Sikhate Yeh Hain
Seedhi Raah Chalate Yeh Hain

Naz E Rooh Me Aasani De
Kalma Yaad Dilate Yeh Hai

Marqad Me Bando Ko Thapak Kar
Meethi Neend Sulaate Yeh Hai

Apne Bharam Se Hum Halko Ka
Palla Bhari Banate Yeh Hai

Laakh Balaye Karoro Dushman
Kon Bachaye Bachate Yeh Hai

Apni Bani Hum Aap Bigare
Kon Banaye Banate Yeh Hai

Thanda Thanda Meetha Meetha
Peete Hum Hai Pilaate Yeh Hai

Sallim Sallim Ki Dhaaras Se
Pul Se Paar Lagate Yeh Hai

Inna Aataina Kal Kauthar
Saari Kasrat Paate Yeh Hai

Unke Haath Me Har Kunji Hai
Maalik e Kul Kehlate Yeh Hai

Bap Jaha Bete Se Bhage
Lutf Waha Farmate Yeh Hai

Maa Jab Iklaute Ko Chhore
Aa Aa Keh Kar Bulate Yeh Hai

Qasr E Daana Tak Kis Ki Rasaai
Jaate Yeh Hai Aate Yeh Hai

Keh Do Raza Se Khush Ho Khush Reh
Muzda Riza Ka Sunaate Yeh Hai

سچی بات سکھاتے یہ ہیں
سیدھی راہ دکھاتے یہ ہیں

ڈوبی ناویں تراتے یہ ہیں
ہلتی نیویں جماتے یہ ہیں

ٹوٹی آسیں بندھاتے یہ ہیں
چھوٹی نبضیں چلاتے یہ ہیں

جلتی جانیں بجھاتے یہ ہیں
روتی آنکھیں ہنساتے یہ ہیں

قصرِ دَنیٰ تک کس کی رَسائی
جاتے یہ ہیں آتے یہ ہیں

اس کے نائب ان کے صاحب
حق سے خَلْق ملاتے یہ ہیں

شافع نافع رافع دافع
کیا کیا رحمت لاتے یہ ہیں

شافع اُمت نافع خَلْقَت
رافع رتبے بڑھاتے یہ ہیں

دافع یعنی حافظ و حامی
دَفع بلا فرماتے یہ ہیں

فیض جلیل خلیل سے پوچھو
آگ میں باغ کھلاتے یہ ہیں

ان کے نام کے صدقے جس سے
جیتے ہم ہیں جلاتے یہ ہیں

اس کی بخشش ان کا صدقہ
دیتا وہ ہے دِلاتے یہ ہیں

ان کا حکم جہاں میں نافذ
قبضہ کل پہ رکھاتے یہ ہیں

قادِرِ کُل کے نائب اَکبر
کن کا رنگ دِکھاتے یہ ہیں

ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے
مالک کُل کہلاتے یہ ہیں

اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَر
ساری کثرت پاتے یہ ہیں

رب ہے مُعْطِی یہ ہیں قاسم
رِزْق اُس کا ہے کھلاتے یہ ہیں

ماتم گھر میں ایک نظر میں
شادی شادی رَچاتے یہ ہیں

اپنی بنی ہم آپ بگاڑیں
کون بنائے بناتے یہ ہیں

لاکھوں بلائیں کروڑوں دشمن
کون بچائے بچاتے یہ ہیں

بندے کرتے ہیں کام غضب کے
مژدہ رضا کا سناتے یہ ہیں

نزع رُوح میں آسانی دیں
کلمہ یاد دلاتے یہ ہیں

مرقد میں بندوں کو تھپک کر
میٹھی نیند سلاتے یہ ہیں

باپ جہاں بیٹے سے بھاگے
لطف وہاں فرماتے یہ ہیں

ماں جب اکلوتے کو چھوڑے
آ آ کہہ کے بلاتے یہ ہیں

سنکھوں بیکس رونے والے
کون چُپائے چپاتے یہ ہیں

خود سجدے میں گر کر اپنی
گرتی اُمت اُٹھاتے یہ ہیں

ننگوں بے ننگوں کا پردہ
دامن ڈھک کے چھپاتے یہ ہیں

اپنے بھرم سے ہم ہلکوں کا
پلہ بھاری بناتے یہ ہیں

ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا
پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں

سَلِّم سَلِّم کی ڈَھارس سے
پل پر ہم کو چلاتے یہ ہیں

جس کو کوئی نہ کھلوا سکتا
وہ زَنجیر ہلاتے یہ ہیں

جن کے چھپر تک نہیں اون کے
موتی محل سجواتے یہ ہیں

ٹوپی جن کے نہ جوتی ان کو
تاج و براق دِلاتے یہ ہیں

کہدو رضا ؔسے خوش ہو خوش رہ
مژدہ رضا کاسناتے یہ ہیں

Views: 358
keyboard_arrow_up