الاستفتاء
آجکل کے بچوں کا یہ کہنا ہے کے انکے والدین کو یہ حق نہیں ہے کے انسے انکی آمدن یا نجی معاملات کے حوالے سے کوئی سوال کیا جاے اسکا شرعاً کیا حکم ہے کیا والدین کو بچوں کی بلاغت کے بعد یا خودمختار ہونے کے بعد انسے سوال کرنے کا حق نہیں ؟
[سائل- ابو نعمان بغدادی، مدینہ منورہ]
باسمہ تعالی
الجواب بعون الملک العلام الوھاب
والدین سے بڑھ کر اولاد پر کس کا احسان ہے ! زندگی بھر اولاد خدمت کرے والدین کے حقوق کی ادائیگی نہیں ہوسکتی وہی اس کی جنت وہی ان کی دوزخ ، ان کی رضا میں رب راضی ان کی ناراضگی میں رب کی ناراضگی، ان کی خدمت جہاد سے بڑھ کر نیکی یہی منشائے قرآنی ہے۔ والدین اگر آمدنی یا نجی معاملات کے متعلق سوال کریں تو اگر کوئی شرعی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو والدین سے یہ نجی باتیں بتانا اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگرچہ شرعا یہ واجب نہیں مگر ان کے احسانات کے مقابلے میں اس کی حیثیت بہت معمولی سی ہے۔ والدین اگر خیر خواہ ہیں، فسق و فجور والے نہیں تو ان کو بتانا کسی اعتبار سے نقصان نہ دے گا بلکہ ان کی دعاؤں اور مشاورت سے اور برکت ہوگی
ایسا رویہ جس سے والدین کی دل آزاری ہو ناجائز ہے
ارشاد باری تعالی ہے
وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (سورۃ البقرہ: 83)
اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو
اگر والدین محتاج ہوں اور اولاد صاحبِ نصاب یا کمانے والی ہو تو اولاد پر والدین کا خرچ کرنا واجب ہے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب در مختار میں ہے: وتجب نفقة الأبوین الفقیرین وإن علوا على ولدهما الموسر (رد المحتار، باب النفقات)
یعنی: "فقیر والدین کا نفقہ صاحبِ حیثیت اولاد پر واجب ہے۔'"
لہذا ایسی صورت میں والدین آمدنی پوچھ سکتے ہیں تاکہ ان کی ضرورت پوری ہو سکے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
إذا كان الولد بالغًا عاقلاً فماله له، ولا يجوز لأحد أن يأخذ منه إلا برضاه، إلا الأب عند الحاجة.
(الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب السابع، ج 4، ص 391)
یعنی:
"جب اولاد بالغ اور عاقل ہو تو اس کا مال اسی کا ہے، کسی کو اس سے لینا جائز نہیں مگر اس کی اجازت سے، البتہ باپ ضرورت کے وقت لے سکتا ہے۔"
واللہ تعالٰی اعلم
کتبہ
مفتی عبدالرحمن قادری
دارالافتاء غریب نواز
لمبی جامع مسجد ملاوی وسطی افریقہ
22 شعبان 1447ھ

