Darul Ifta

مشہور نعت / استغاثہ میں ایک شعر ہے جس کا مفہوم ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان نہیں دی تو سورج طلوع نہیں ہوا

اردو فتویٰ
سوال

الاستفتاء

محترم مفتی صاحب ایک مشہور نعت / استغاثہ میں ایک شعر ہے جس کا مفہوم ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان نہیں دی تو سورج طلوع نہیں ہوا کیا یہ حقیقت ہے ؟

بمعرفت : مولانا عقیل انصاری ، مدرسہ نورالاسلام، لمبی ملاوی

جواب

باسمہ تعالٰی

الجواب

خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت العلام مفتی شریف الحق امجدی لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، منگھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے-

(فتاوی شارح بخاری، ج٢ ،ص٣٨)

لہذا اس طرح کے اشعار قطعاً نہ پڑھے جائیں بلکہ وہی کلام پڑھا جائے جو علماء اہلسنت نے تحریر کیا ہوا ہو یا علماء اہلسنت سے تصدیق شدہ ہو ۔

دین دار افراد کی ذمہ داری ہے جہاں پر بھی ایسا کلام پڑھتے ہوئے دیکھیں جس میں من گھڑت روایات ہوں ان کو روکیں اور ان کو رائج نہ ہونے دیں۔

والله تعالیٰ اعلم

کتبہ

مفتی عبدالرحمن قادری

دارالافتاء غریب نواز

لِمبی جامع مسجد ملاوی، وسطی افریقہ

22 شوال المکرم 1444ھ

keyboard_arrow_up