Crypto Coin or Currency کیا حلال ہے یا حرام
تقوی جس کا نام تھا وہ تو رخصت ہوا ۔۔اب صرف فتوی دیکھئے !!!
عزیزان من ! ہم کرپٹو crypto کے دور میں جی رہے ہیں گو کہ میں اس کو curropto ک پر زبر لگا کر ہی پڑھتا ہوں۔۔
آو تمھاری دوسری صدی کے ایک بڑے تاجر سے ملاقات کرادوں۔ اتفاق سے وہ امام بھی تھے۔ ان کو جنازہ پڑھانے کا کہا گیا ۔ جنازہ پڑھانے کیلئے وقت پر پہنچے۔ جنازہ آنے میں تاخیر ہوئ۔ تو امام صاحب دھوپ میں انتظار کرتے رہے۔ لوگوں نے آپ کو پسینہ میں شرابور دیکھا تو ایک دیوار کے سایہ میں بیٹھنے کیلئے کہا تو آپ انکار فرماتے رہے۔ بہت اصرار پر لوگوں کو بتادیا کہ " اس مکان کا مالک میرا مقروض تھا اور میں اپنے مقروض کی دیوار کے سایہ سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا کہ کہیں یہ سود میں شمار نہ ہوجائے "
انہی امام صاحب کے متعلق یہ بات بھی ملتی ہے
7 سال تک بکری کا گوشت صرف اِس وجہ سے نہ کھایا کہ کہیں وہ گوشت کُوفے میں چوری ہونے والی بکری کا ہی نہ ہو۔
یہ امام صاحب صرف امام نہیں تھے بلکہ فقہ حنفی کے بانی، امت کے سورج، تابعی اپنے زمانے میں اور پچھلی 13 صدیوں کے سب سے بڑے امام اور عالم تھے ۔ حضرت نعمان بن ثابت - امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ۔ آج انہی کے پیروکار کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح بس ہر چیز جائز ہوجائے، کوئ راستہ مل جائے ۔
تاریخ ایسے تقوی اور پارسائ کے واقعات سے بھری ہوئی گو کہ آجکل کے لوگ اپنے آپ کو بہت smart, upgraded ،advance سمجھتے ہیں مگر یاد رہے انہی بزرگوں کا تقوی تھا اسلامی معاشی نظام ایسا مستحکم تھا کہ شاید قیامت تک کسی قوم کا ایسا GDP, Foreign Reserve مالی ذخائر نہ ہوسکے ۔
یہی وجہ ہے قرآن پاک میں کم از کم 69 مرتبہ فرمایا گیا ۔ اتقوا اللہ ۔۔اللہ سے ڈرو اور اس پر مزید سینکڑوں مرتبہ اللہ سے ڈرنے اور خوف خدا کا ذکر کیا گیا۔
مگر آج حقیقت ہے ۔۔تقوی ہم سے رخصت ہوگیا۔۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی باخبر کیا -
" جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا "
آج کسی کو یا کتنوں کو آپنے مشتبہ doubtful سے بچتے دیکھا !!!
صحابہ کرام کا تو طرز عمل یہ تھا :
"ہم حرام میں پڑنے کے خوف سے حلال کا بھی نو دسواں حصہ چھوڑ دیتے تھے۔"
ہم تو ہر چیز کو جائز کرنے پر تلے ہیں۔۔!!
2017 کی بات مجھے یاد آگئی، ایک بہت بڑے بینک کے ہم بھی شریعہ ایڈوائزر تھے، مارکٹ کے ایک بہت بڑے Broker جو interbank treasury deals کرتے تھے اور اسلامی بینکوں کا پیسہ سودی بینکوں میں لگاتے تھے۔۔۔میں نے تنبیہ کی تو ہنستے ہوئے کہنے لگے۔۔"مفتی صاحب، مارکٹ میں بکرے اور گائے نہیں مل رہے تھے ہم نے سوچا گھوڑے اور گدھے کھا کر گزارا کیا جائے ۔۔۔یعنی اربوں روپیہ اسلامی بینکوں میں جمع ہے۔۔ملک کے حالات ٹھیک نہیں۔۔اسلامی بینکوں کو فائدہ تو چاہئے۔۔۔تو ہم یہ کام کرتے ہیں کہ سودی بینکوں میں پیسہ رکھ دیتے ہیں اور سب کو پتہ ہے پس پردہ کیا ہورہا ہے ۔۔۔۔ہم مجبور ہیں۔۔۔"
اس کی بات سے دل بہت رنجیدہ ہوا ۔دیانت داری کے تقاضے کے تحت یہ بات میں نے افسران بالا اور اسٹیٹ بینک تک پہنچادی۔۔۔ممکن ہے سدھار آگیا ہو۔
مگر میرے عزیز ۔۔آج مفتیان کرام کی کثرت ہے ۔۔خواہ غریب علاقہ ہو یا امیر ۔۔لیاری کی مچھر کالونی ہو یا ڈیفنس کی خیابان شمشیر یا creek vista اپارٹمنٹ ہر طرف مفتیان کرام دستیاب ہیں ۔۔مگر ایک مفتی ہر وقت تمھارے ساتھ ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
استفت قلبک۔۔اپنے دل سے فتوی لو
رات کی تنہائی میں زہے نصیب حلال کمائی کی برکت سے تہجد کے پر نم سجدے نصیب ہوجائیں تو اپنے دل سے پوچھ لینا جو میں کررہا ہوں ٹھیک ہے ؟؟؟ یا میرا پیٹ صرف جہنم کی طرح " ھل من مزید " کا نعرہ مستانہ لگارہا ہے۔۔۔مجھے اور دو ۔۔مجھے اور دو۔۔لکڑ ہضم پتھر ہضم
تیرا مخلص تیرا ہمدرد
غریب الوطن
عبدالرحمن
نوٹ : آپ نے پڑھا شکریہ ۔ مجھے گالیاں دینے کے بجائے ایک احسان کیجئے گا پاکستان میں کرپٹو کی کاشت(مائننگ ) کس فصل، کھیت یا پہاڑ میں ہوگی یہ بتادیجئے گا

