Darul Ifta

پوتے کے ساتھ عمرہ کے لیے سفر

اردو فتویٰ
سوال

الاستفتاء

محترم مفتی صاحب،

ایک بیوہ خاتون جن کی عمر تقریباً 65 سال ہے، صحت ایسی نہیں کہ وہ تنہا عمرہ ادا کر سکیں، انہیں کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا وہ اپنی بہن کے پوتے کے ساتھ عمرہ کے لیے سفر کر سکتی ہیں؟

[سائل - ابو ضیاء بغدادی، مدینہ منورہ]

جواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب

شریعت مطھرہ میں نانا، نانی، دادا، دادی کے حقیقی بھائی بہن محارم ہیں ان سے کوئی پردہ نہیں ہے۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : القسم الأول المحرمات بالنسب وھن الأمہات والبنات والأخوات والعمات والخالات․․․ وأما العمات فثلاث․․․ وکذا عمات أبیہ عمات أجدادہ وعمات أمہ وعمات جداتہ وإن علون․․․․ وأما الخالات․․․․ وخالات آبائہ وأمھاتہ

پہلا حصہ ان عورتوں کا ہے جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں، اور وہ یہ ہیں: مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں اور خالائیں۔

رہی پھوپھیاں تو وہ تین قسم کی ہوتی ہیں:(1) خود آدمی کی پھوپھی،(2) اس کے باپ کی پھوپھیاں، یعنی باپ کے باپ، دادا وغیرہ کی پھوپھیاں، اگرچہ وہ اوپر تک چلی جائیں،(3) اور اس کی ماں کی پھوپھیاں، نیز اس کی دادیوں کی پھوپھیاں، اگرچہ وہ سب اوپر تک ہوں۔ اور رہی خالائیں تو وہ بھی اسی طرح ہیں: آدمی کی اپنی خالہ، اور اس کے باپوں کی خالائیں، اور اس کی ماؤں کی خالائیں۔

امام علاء الدین کاسانی رقمطراز ہیں: كُلُّ مَنْ كَانَتْ عَمَّةً لَهُ أَوْ خَالَةً لَهُ مِنْ جِهَةِ الْآبَاءِ أَوِ الْأُمَّهَاتِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ نِكَاحُهَا.

[ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع

کتاب النکاح، فصل في بيان المحرَّمات من النساء]

ہر وہ عورت جو کسی بھی درجے میں اس کی پھوپھی یا خالہ ہو، خواہ باپ کی طرف سے ہو یا ماں کی طرف سے، اس سے نکاح اس پر حرام ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون اپنی بہن کے پوتے کے ساتھ عمرے پر جاسکتی ہیں۔

واللہ تعالٰی اعلم

مفتی عبدالرحمن قادری

دارالافتاء غریب نواز

لمبی جامع مسجد ملاوی

وسطی افریقہ

21 شعبان 1447ھ

الجواب صحیح

مہتاب احمد قمر نعیمی

رئیس فتاوی مرکزِ تربیتِ اِفتا (پاکستان) کراچی

الجواب صحیح

جلال الدین امجدی رضوی

گلشن فاطمہ للبنات پیپل گاؤں نایٔگاؤں ضلع ناندیڑ مہاراشٹر الھند

keyboard_arrow_up