استاد ایک مربی ایک معمار
استاد، وہ عظیم شخصیت ہے جس کی بدولت انسان جہالت کی تاریکی سے نکل کر علم و شعور کی روشنی میں آتا ہے۔ استاد، وہ رہنما ہے جو ہمیں زندگی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کا سلیقہ سکھاتا ہے، جو ہماری عقل کو جلا بخشتا ہے اور ہمارے کردار کو سنوارتا ہے۔ استاد صرف علم کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اخلاق، تہذیب، اور روحانی تربیت کا سرچشمہ بھی ہوتا ہے۔ دین اسلام نے استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا ہے اور اس کے ادب و احترام کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔

استاد کا مقام اسلام کی نظر میں
اسلام نے استاد کو بہت بلند مقام عطا فرمایا ہے۔ قرآن و سنت میں جابجا تعلیم، معلم، اور شاگردی کے آداب کا ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا”
(یقیناً مجھے معلم (استاد) بنا کر بھیجا گیا ہے)
— سنن ابن ماجہ
اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:

“جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا، میں اس کا غلام ہوں، چاہے وہ مجھے بیچ دے، آزاد کر دے یا غلام بنا کر رکھے۔”
یہ قول اس بات کی واضح دلیل ہے کہ استاد کا حق کس قدر عظیم ہے۔

ادبِ استاد کے اثرات
جو طلبہ اپنے اساتذہ کا ادب کرتے ہیں، ان کے علم میں برکت ہوتی ہے، ان کا دل نرم، زبان شیریں اور اخلاق عمدہ ہوتا ہے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتی ہے، کیونکہ وہ اپنے محسن کے احترام میں اللہ کی رضا تلاش کرتے ہیں۔

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ، اپنے استاد امام مالک کے سامنے ایسے مؤدب بیٹھتے کہ گویا ایک شاگرد نہیں بلکہ ایک غلام ہو۔ آپ فرمایا کرتے:

“میں کبھی استاد کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا، اور نہ ہی ان کے سائے میں بیٹھتا تھا۔”

ادب کی عملی مثالیں
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، استاد حماد بن ابی سلیمان کے گھر کی طرف پاؤں کر کے سونا بھی گوارا نہ کرتے تھے، حالانکہ آپ کا اپنا گھر کئی گلیوں کے فاصلے پر تھا۔

شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“میں نے اپنے استاد کے جوتے صاف کرنے میں عزت محسوس کی، اور اللہ نے مجھے دنیا میں عزت دی۔”

آج کے دور میں استاد کا مقام
بدقسمتی سے آج کے جدید دور میں استاد کا مقام دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور آزادیِ رائے کے نام پر استادوں کی تضحیک کی جا رہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم نوجوان نسل کو استاد کے ادب و احترام کی تعلیم دیں تاکہ معاشرہ دوبارہ علم و ادب کا گہوارہ بن سکے۔

شاگرد کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟
۱۔ استاد کے سامنے خاموشی سے بیٹھنا۔
۲۔ سوال ادب سے کرنا۔
۳۔ استاد کی غیر موجودگی میں بھی ان کے بارے میں ادب سے بات کرنا۔
۴۔ ان کے حکم پر عمل کرنا۔
۵۔ ان کی عزت دل سے کرنا، نہ صرف ظاہری طور پر۔

ادب استاد = ترقی یافتہ قوم
جس قوم کے نوجوان استادوں کا ادب کرتے ہیں، وہ قوم زوال کا شکار نہیں ہوتی۔ جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی استادوں کو سب سے زیادہ قابلِ احترام شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

اختتامیہ
استاد کا ادب دراصل علم کا ادب ہے، علم کا ادب دراصل رب کا ادب ہے۔ جو طالب علم استاد کا احترام کرتا ہے، وہ زندگی میں کبھی ذلیل و خوار نہیں ہوتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسل کامیاب ہو، ہمارے معاشرے میں تہذیب ہو، اور ہمارے دلوں میں نور ہو، تو ہمیں استاد کے ادب کو اپنے کردار کا حصہ بنانا ہو گا۔

ایک پیغام
یاد رکھیں!
استاد صرف نصاب پڑھانے والا فرد نہیں، بلکہ ایک مربی، ایک رہنما، اور ہماری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔
اگر ماں باپ جسمانی زندگی دیتے ہیں تو استاد روحانی زندگی عطا کرتا ہے۔

مزید مواد: استاد کے ادب و احترام پر

۱۔ استاد کی تربیت والدین کی تربیت کے بعد سب سے اہم
استاد صرف علم نہیں دیتا بلکہ تربیت کرتا ہے۔ استاد کی شخصیت، اس کی گفتار، کردار اور عمل سے شاگرد سیکھتا ہے۔ نیک استاد ایک نسل کو سنوار دیتا ہے۔
یاد رکھیے:

“اگر ایک ماں دس بچوں کو پال سکتی ہے، تو ایک استاد ہزاروں بچوں کو سنوار سکتا ہے۔”

۲۔ قرآن و سنت میں معلمین کے لیے بشارتیں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ”
(اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا)
— سورۃ المجادلۃ: 11
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں۔”
— صحیح بخاری

۳۔ استاد کی توہین کا انجام
جو قومیں استاد کا ادب نہیں کرتیں، وہ نہ صرف علم کی برکت سے محروم ہو جاتی ہیں بلکہ ان کی ترقی کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“علم حاصل کرنا فرض ہے، لیکن استاد کا ادب کرنا علم کے حاصل ہونے کی شرط ہے۔”

۴۔ ہمارے اکابرین کا عمل
امام مالک رحمہ اللہ: جب درس دینے بیٹھتے تو نہایت خوشبو لگاتے، عمدہ لباس پہنتے اور ادب سے بیٹھتے، اور کہتے:

“یہ حدیثِ رسول ﷺ کا ادب ہے۔”
حضرت رابعہ بصریہ نے ایک بار اپنے استاد کا پانی کا پیالہ زمین پر نہ رکھنے دیا کہ یہ استاد کی بے ادبی ہے۔

۵۔ جدید دور کا چیلنج اور حل
ڈیجیٹل دور میں بچے علم حاصل کر رہے ہیں لیکن استاد کی قدردانی کم ہوتی جا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی علم کا ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن استاد کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔
حل یہی ہے کہ:

بچوں کو چھوٹی عمر سے استاد کے احترام کی تربیت دی جائے۔
اسکولوں و مدارس میں آدابِ طالبعلمی کے اسباق شامل کیے جائیں۔

والدین اور معاشرے کی ذمہ داری
والدین خود استادوں کا ادب کریں تاکہ ان کے بچے سیکھیں۔ معاشرہ استادوں کی عزت کو فروغ دے۔ تعلیمی ادارے اساتذہ کو عزت دیں تاکہ وہ اخلاص سے پڑھائیں۔

📜 ناصحانہ اشعار:
۱۔
استاد کی عزت کرو اے جوانو!
اسی کی بدولت ہیں روشن زمانے

۲۔
جو جھکتا ہے استاد کے آگے دل سے
وہی بنتا ہے کل کا رہبر واقعی

۳۔
سفرِ علم کا آغاز ادب سے ہوتا ہے
بے ادب راہ میں ہی گم ہو جاتا ہے

✅ خلاصہ
استاد کا ادب، علم کا دروازہ ہے۔ استاد کا احترام، اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔ جو قومیں استادوں کی قدر کرتی ہیں، وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتی ہیں بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہوتی ہیں۔

📚 مزید اہم نکات: استاد کے ادب و احترام

۷۔ استاد کا مقام احادیث کی روشنی میں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“علم حاصل کرو اور اس کے لیے سکون و وقار اختیار کرو، اور جس سے سیکھو اس کا ادب کرو۔”
— شعب الایمان

۸۔ استاد کی بے ادبی کے نقصانات
دل سے علم کا نور ختم ہو جاتا ہے۔
سیکھا ہوا علم فائدہ نہیں دیتا۔
زبان و عمل میں بے برکتی آ جاتی ہے۔
اللہ کی ناراضی مول لی جاتی ہے۔

مثال:
ایک طالب علم نے اپنے استاد سے گستاخی کی۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ طالب علم ذہنی دباؤ، علمی زوال اور معاشرتی تنگی کا شکار ہو گیا۔

۹۔ استاد کے بغیر علم بے معنی
جیسے بغیر چراغ کے اندھیری رات میں سفر کرنا خطرناک ہوتا ہے، ویسے ہی بغیر استاد کے علم حاصل کرنا گمراہی کا باعث بن سکتا ہے۔

قول:

“من كان شيخه كتابه، كان خطؤه أكثر من صوابه”
“جس کا استاد صرف کتاب ہو، اس کی غلطیاں اس کی درست باتوں سے زیادہ ہوں گی۔”

۱۰۔ استاد کے ادب کے عملی آداب
استاد کو سلام میں پہل کرنا۔
ان کی بات نہ کاٹنا۔
ان کی موجودگی میں بلند آواز سے بات نہ کرنا۔
ان کے سامنے موبائل وغیرہ کا استعمال نہ کرنا۔
ان کے چہرے کو بغور اور محبت سے دیکھنا، کیونکہ یہ برکت کا ذریعہ ہے۔

🌟 تاریخی واقعات
حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

آپ اپنے اساتذہ کے لیے کئی میل پیدل چل کر جایا کرتے اور اکثر اوقات ان کی باتوں کو کاغذ پر لکھ کر یاد کرتے۔ کہتے تھے:

“استاد کی زبان سے نکلا ہوا لفظ بھی علم ہوتا ہے، اس لیے ہر بات لکھنے کے قابل ہے۔”

امام شافعی رحمہ اللہ کا ادب

استاد امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے کتاب بھی نہیں پلٹاتے تھے کہ آواز سے استاد کو تکلیف نہ ہو۔

🕊️ سادہ مگر پراثر نصیحت
“جس دل میں استاد کی عزت ہوتی ہے، وہاں حسد، نفرت اور بربادی داخل نہیں ہو سکتی۔”

پتنگ اڑانا، لڑانا، لوٹنا، ڈور اور مانجھا وغیرہ بیچنے کا حکم؟

پتنگ اڑانا اور لڑانا

امام اہل سنت فرماتے ہیں: کنکیا (پتنگ) اڑانا منع ہے اور لڑانا گناہ۔

(رضویہ ٢٤/٦٦١)

پتنگ بازی اور آلات پتنگ بیچنا

امام اہل سنت فرماتے ہیں: کنکیّا (پتنگ) اڑانے میں وقت (اور) مال کا ضائع کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیّا (پتنگ)، ڈور بیچنا بھی منع ہے احتراز کریں۔ (رضوية ٢٤/٦٦٠)

پتنگ لوٹنے کا حکم اور خود گرے تو کیا کرے؟

امام اہل سنت فرماتے ہیں: کنکیا (پتنگ) لُوٹنا حرام، اور خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے، اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دے دے کہ وہ کسی جائز کام میں صَرف کرلے، اور خود مسکین ہو تو اپنے صرف میں لائے، پھر جب معلوم ہو کہ فلاں مسلم کی ہے اور وہ اس تصدق یا اس مسکین کے اپنے پر راضی نہ ہو تو دینی آئے گی اور کنکیا کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں۔ (رضوية ٢٤/٦٦١)

پتنگ اُڑانے کے بہت زیادہ نقصانات ہیں۔ اِس کی ڈور سے کئی لوگ زخمی ہو جاتے ہیں اور کئی لوگوں کی  گَردنیں تک کٹ کر جان بھی چلی جاتى ہیں۔ لہذا پتنگ اڑانے، لڑانے اور الات پتنگ بیچنے سے لازمی طور بچنا چاہیے۔

ابو الحسن محمد شعیب خان

24 مارچ 2024

نہ چاہتے ہوئے بھی وہ لکھنا پڑ رہا ہے، جو دل  اور قلم پر بھاری ہے ۔

حجازِ مقدّس کا سفر۔۔۔ ایک اعزاز سے کم نہیں ہے ۔

جب یہ بلاوا آتا ہے تو دل کی زمین نم ہونے لگتی ہےآنکھوں کے چشمے بے اختیار بہہ پڑتے ہیں،اور ہچکیوں کی لرزتی گونج اُس شوق و محبت کی شدت کو عیاں کر دیتی ہےجو لفظوں کی قید میں نہیں آ سکتی۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سانس بھی آہستہ لینا  ادب کا تقاضا ہے۔

 اے زائرِ حرم!

یاد رکھ، یہ سرزمین تفریح کا میدان نہیں،یہ عشق و ادب کا مقام ہے۔

یہاں حاضری نہیں، تسلیم و تعظیم کا امتحان ہوتا ہے۔

قرآن خبردار کر چکا ہے —

“اَن تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ”

کہ بے ادبی سے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں —

چاہے نماز ہو، روزہ ہو، حج ہو یا عمرہ۔

پس یہاں زبان بھی ضبط مانگتی ہے، نگاہ بھی ادب مانگتی ہے۔

یہاں شوخی نہیں، خاموشی عبادت ہے۔

یہاں ہنسی نہیں، آنسو زینت ہیں۔

افسوس کہ کچھ دل غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں —

مقدس مقام پر بھی کھیل تماشے بناتے ہیں،

تصویریں اور ویڈیوز میں ادب کی چادر نوچ ڈالتے ہیں۔

افسوس!

اسی پاک مقام پر کچھ دل دنیا کی مستیوں میں کھو جاتے ہیں۔

کوئی بیوی شوہر کے شانوں پر سر رکھ کر تصویریں بنواتی ہے،کہیں شوہر بیوی کو بانہوں میں لیے کھڑا ہے،اور نئے جوڑے انگلیوں سے دلوں کے نشان بنا کر

اس مقدس فضا میں محبت نہیں، غفلت کے عکس پھیلا رہے ہیں۔

یہ وہ حرکات ہیں جن سے روح زخمی ہوتی ہے،ادب کا نور مدھم پڑتا ہے،اور تعظیم کے چراغ بجھنے لگتے ہیں۔

اے حرم کے مہمان!

یہاں ہر لمس میں طہارت چاہیے،

ہر لفظ میں ادب،

ہر تصویر میں ضبط۔

ایسی حرکتیں چند لوگوں سے شروع ہوتی ہیں،

مگر جب برائی کو برائی نہ سمجھا جائےتو یہ contagion بن کر دلوں سے حیا چھین لیتی ہے۔

اے حرم کے مہمان!

تجھے یہاں آنسوؤں میں بھی ادب رکھنا ہے،

ہنسی میں بھی حدود یاد رکھنی ہے،

اور رشتوں میں بھی تعظیم کا لباس نہیں اتارنا۔

یہاں ہر سانس، ہر لمحہ، ہر ادا صرف ایک صدا کے تابع ہے —

“اَدَب! اَدَب! اَدَب!”

یہ زمین پکنک پوائنٹ نہیں،یہ دل کے جُھکنے، روح کے رونے،اور بندگی کے کامل ہونے کا مقام ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر میدان کے ماہرین اپنی فنی بصیرت اور تجربے کے اعتبار سے فیصلہ سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی مفہوم کو عربی محاورے “لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ” (ہر فن کے لیے اس کے ماہرین ہوتے ہیں) میں سمویا گیا ہے۔

اسلامی ریاست یا دینی تحریک کے انتظامی ڈھانچے میں جب عملی فیصلوں یا تنظیمی امور پر غور کیا جائے تو اہلِ فن و اہلِ تجربہ کی آراء کو نظر انداز کرنا حکمت کے خلاف ہے۔

امام اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کا اصولی بیان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “امورِ انتظامیہ جن میں شرعِ مطہر کی جانب سے کوئی تحدید نہ ہو، ان میں کثرتِ رائے کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اس میں ہر ذی رائے مسلمان سنی کی رائے معتبر ہوگی، اگرچہ وہ عالم نہ ہو، کیونکہ معاملہ شرعیات سے نہیں بلکہ دنیوی انتظامات سے متعلق ہے۔ بلکہ اکثر تجربہ کار کم علموں کی رائے کسی ناتجربہ کار ذی علم کی رائے سے زیادہ صائب ہوتی ہے۔”

(الفتاویٰ الرضویہ، ج 16، ص 45)

یہ قول نہایت جامع ہے، جس سے دو اہم اصول سامنے آتے ہیں:‏

  • دنیوی و انتظامی امور میں ماہرین کی رائے معتبر ہے۔
  • ہر فیصلہ شرعی فتوے کا متقاضی نہیں، بلکہ تجربہ و تدبیر کا محتاج ہوتا ہے۔

حدیث میں بھی اس اصول کی تائید موجود ہے:أَنتُم أَعلَمُ بِأُمُورِ دُنیَاکُم”

(تم اپنے دنیوی معاملات کو بہتر جانتے ہو۔)

اسی انتظامی اہلیت کو کے متعلق مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: “حکومت کے لیے اسلامی سیاست دانی ضروری ہے۔”

(مرآة المناجیح، شرحِ مشکوٰۃ، )

یہاں واضح کیا گیا کہ سیاست یا نظامِ حکومت چلانے کے لیے صرف تقویٰ کافی نہیں، بلکہ علمِ سیاست اور عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔

چنانچہ محض عبادت و زہد کی بنیاد پر سیاسی یا انتظامی ذمہ داریاں دینا غیر دانشمندانہ عمل ہوگا۔

مزید فرماتے ہیں:‏
“یہ حدیث اس بات کی بڑی دلیل ہے کہ نا اہل کو حکومت میں دخل نہیں دینا چاہیے، اگرچہ وہ کتنا ہی متقی کیوں نہ ہو۔”

(مرآة المناجیح)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی نظریۂ حکومت میں اہلیت (Competence) اور تجربہ (Experience) بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔

آج کے دور میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مذہبی وابستگی یا شخصی عقیدت کو اہلیت پر ترجیح دی جاتی ہے، جو کہ شرعی اور عقلی لحاظ سے درست نہیں۔ اسلامی تعلیمات اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ ہر شعبہ اپنے ماہرین کے سپرد کیا جائے، تاکہ فیصلے علم، تجربے اور مشاورت کی بنیاد پر ہوں۔

اسی طرزِ عمل سے نظامِ حکومت میں استحکام، عدل اور ترقی ممکن ہے۔

لہذا دینی و دنیاوی نظام کی کامیابی کے لیے اہلِ فن اور ماہرین سے مشاورت ناگزیر ہے۔

شریعت نے جہاں واضح احکام دیے ہیں وہاں ان کی پابندی لازم ہے، مگر انتظامی معاملات میں کثرتِ رائے اور تجربہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے۔

اہلِ تقویٰ اگر فہمِ سیاست و نظام نہیں رکھتے تو انہیں حکومتی یا تنظیمی قیادت نہیں سونپی جانی چاہیے۔

ابو الحسن

دیدار الٰہی

1 عقیدہ: اللّٰہ تعالیٰ جہت و مکان و زمان و حرکت و سکون و شکل و صورت و جمیع حوادث(ایجاد کردہ اُمور ) سے پاک ہے ( تفسیر الکبیر ،سورۃ الکھف الایۃ 79 ت 82)

2 عقیدہ: دنیا کی زندگی میں اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار ، ہمارے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے ، اور آخرت میں ہر صحیح العقیدہ مسلمان کے لیے ممکن بلکہ واقع ہوگا (الفتاوی الحدیثیۃ ، مطلب فی رویۃ اللّٰہ تعالیٰ فی دنیا و منح الروض الأزھر)

حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “مجھے میرے رب عزوجل نے فرمایا ،کہ میں نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا، اور موسیٰ سے کلام فرمایا ،اور تمہیں مواجہ بخشا کہ بے پردہ و حجاب تم نے مجھے دیکھا”( مجمع بحار الانوار)

اور اس حدیثِ مبارکہ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی نے “فتاویٰ رضویہ میں جلد نمبر 30 صفحہ نمبر 637 رسالہ ” منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرّؤیۃ” میں نقل فرمایا ہے ۔

اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں اہل جنت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے “کچھ چہرے اس دن تر وتازہ ہوں گے ، اپنے رب کو دیکھتے ہوئے”( پ 29 سورۃ القیامہ )

امام طبری علیہ رحمہ اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں کہ” یقیناً اہل جنت بروزِ قیامت ،آنکھوں سے اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے”( جامع البیان, جزء:7)

اسی عنوان کے متعلق”* صحیح مسلم*” میں حدیث مبارکہ موجود ہے کہ حضرت سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، کہ اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا”*عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے ، جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو ۔”(صحیح مسلم)

اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ “جہاں تک عقل پہنچتی ہے وہ خدا نہیں ،اور جو خدا ہے اُس تک عقل کی رسائی نہیں ، اور وقت دیدار نگاہ اُس کا احاطہ کرلے ، یہ محال ( ناممکن) ہے”

دنیوی زندگی میں ہمارے نبیِ کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوا، رہا قلبی دیدار یا خوابی دیدار دیگر انبیاء و اولیاء کو بھی نصیب ہوا ہے ، اور آخرت میں اہل ایمان کو اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار ، بلا حجاب و بلا تشبیہ و بلا کیفیت سر کی آنکھوں سے ہوگا ـــ انشاء اللّٰہ تعالیٰ

وما علینا الاالبلاغ المبین

از: حافظ محمد حسین قادری

درجہ سادسہ

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی

ذاتِ باری تعالیٰ اور صفات باری تعالیٰ کی وضاحت

عقیدہ: اللّٰہ تعالیٰ کی صفات نہ مخلوق ہیں اور نہ اس کی قدرت  کے تحت داخل  (الفقه الاکبر و المعتقد المنتقد)

اللّٰہ تعالیٰ کی صفات نہ عین ذاتِ باری تعالیٰ ہے (اس طور پر کہ ذات و صفات مفہوم و معنی کے اعتبار سے بالکل ایک ہی چیز ہوں، ایسا نہیں) کیونکہ صفات الہٰی ذاتِ الٰہی پر زائد ہوتی ہیں ، بس بالکل ایک نہ ہوئیں لہذا صفات باری تعالیٰ ذات باری تعالیٰ کا عین نہ ہوئیں ۔اسی طرح صفات باری تعالیٰ ذات باری تعالٰی کا غیر بھی نہیں (یعنی صفات ذات سے جدا نہیں)

صفات تو ذات کے بغیر اس لیے نہیں پائی جاسکتیں کہ صفات ذات کے تابع ہوتی ہیں اور تابع متبوع کے بغیر موجود نہیں ہوسکتا اور ذات باری تعالٰی اپنی صفات کے بغیر اس لیے نہیں پائی جاتی کہ اس صورت میں ذاتِ باری تعالیٰ کا صفات کمال کے بغیر ہونا لازم آۓ گااور یہ محال ہے ، لہٰذا صفات باری تعالیٰ ذات باری تعالٰی کا غیر نہ ہوئیں مختصراً اس عقیدے کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ”صفات باری تعالیٰ نہ عین ذاتِ ہیں اور نہ غیر ذات۔

ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک”ہر عاقل و بالغ یہ اعتقاد نہ رکھے کہ حق تعالیٰ موجود ھےاور اپنی ذات میں قدیم، بیحد و حدود ھے اور اسکا کوئی مکان و جہت نہیں”(کشف المحجوب)

جیسے ارشاد باری تعالیٰ:”کوئی شۓ اس کی مثل نہیں وہی سننے دیکھنے والا ہے “(الشوری:11)

اور صفات باری تعالیٰ کی معرفت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک “ہر عاقل بالغ یہ اعتقاد نہ رکھے کہ اس کی تمام صفتیں اسی کے ساتھ مطلوب ہے (یعنی اس کی صفات نہ اس کی ذات ہیں اور نہ ہی اس کا غیر ،وہ اپنی صفات کے ساتھ دائم ھے )”

جیسے ارشاد باری تعالیٰ:”اس کا کلام سچا ہے “(الانعام:73)

وماعلینا الاالبلاغ المبین

از : حافظ محمد حسین قادری

درجہ سادسہ

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی

شرک کی حقیقت

شرک کی تعریف:

قال الامام سعد الدین تفتازانی علیہ رحمۃ اللّٰہ “الإشراک ھو إثبات الشّریک فی الأُلوھیّۃ بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس ، أو بمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبادۃ الأصنام ” ( شرح العقائد النسفیۃ)

ترجمہ:* امام سعد الدین تفتازانی علیہ رحمۃ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ شرک  وہ ‘الوہیت (خدائی) میں دوسرے کو شریک کرنا،بایں معنی کہ غیر خدا کو واجب الوجود (یعنی جس کا وجود  ضروری ہو)جس طرح مجوس کا عقیدہ یاغیرخداکو مستحق عبادت جاننا جس طرح بتوں کے پجاریوں کا عقیدہ ھے بتوں کے بارے میں

دور حاضر کے فتنوں میں سے ایک بڑا فتنہ یہ ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بات بات پر بلاوجہ سادہ لوح  مسلمان پر کفر اور شرک کے باطل فتوے لگا دیے جاتے ہیں اور مشرک سازی کے اس شوق میں قرآن و حدیث کے اصول بھی پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں

ان لوگوں کو اتنا بھی احساس نہیں کہ دین اسلام تو شرک کی جڑیں کاٹنے کے لیے آیا ہے مگر یہ لوگ خوف خدا سے عاری ہو کر دن رات مسلمان پر ہی بے دریغ فتوے بازی کا بازار گرم کیے رہتے ہیں

شاید نادان لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح مسلمانوں کو مشرک بنا کر ہم دین اسلام کی بہت بڑی خدمت سرانجام دے رہے ہیں مگرانہیں نہیں معلوم کہ وہ الٹا اپنے لیے جہنم خرید رہے ہیں

کیونکہ جس طرح شرک کرنا بہت بڑا ظلم اور جرم ہے اسی طرح کسی مسلمان کو مشرک قرار دینا بھی حرام اور بہت بڑا جرم ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:إذا قال الرّجل لأَخیہ: یا کافر! فقد باءَ بأحدھما

(صحیح مسلم ، کتاب الایمان)*

ترجمہ: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو یہ کلمہ دونوں میں سے کوئی ایک ضرور لے کر اٹھے گا”

اس حدیث پاک سے واضح ہے کہ کسی مسلمان کو بلاوجہ کافر اور مشرک قرار دینا خود کافر اور مشرک بننا ہے

قابل صد افسوس یہ کہ کچھ لوگ مسلمان کو مشرک قرار دینے کا راگ الاپنے میں ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں حالانکہ شرک و کفر کا موضوع انتہائی نازک ہے شرک کا مفہوم یہ ہے کہ “اگر کوئی شخص اللّٰہ کے سوا کسی کے لیے ادنی سے ادنی ذاتی علم غیب ،قدرت، تصرف،وغیرہ تسلیم کرے تو یہ یقینا شرک قرار پائے گا کیونکہ کائنات میں کسی کو بھی ذاتی طور پر اللّٰہ تعالی کے دیے  بغیر کوئی اختیار، قدرت،  تصرف،علم غیب بلکہ کوئی بھی شئ ہرگز ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔”

علماء کرام نے شرک کی تین اقسام بیان فرمائیں ہیں:

1: شرک فی العبادۃ:

“اللہ تعالی کے سوا کسی  کو  عبادت مستحق سمجھنا جیسے مشرکین مکہ جنہوں نے کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے جن کی وہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے

2: شرک فی الذات:

 اللہ تعالی کی ذات میں  کسی کو اللہ کے ساتھ شریک کرنا جیسےمجوسی جو دو خداؤں کو مانتے ہیں

3: شرک فی الصفات:

 کسی کی ذات اور شخصیت میں اللّہ تعالی جیسی صفات ماننا

الحمدللہ مسلمان ہر قسم کے  شرک سے محفوظ ہے وہ نہ توشرک فی العبادت میں مبتلا اور نہ ہی شرک فی الذات اور شرک فی الصفات میں مبتلا کیونکہ مسلمان نہ اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت کرتا اورہی نہ اس کے سوا کسی کومستحق عبادت  جانتا ہےاور نہ ہی اللہ تعالی جیسا کسی کو مانتا ہے اور نہ ہی اس کی صفات جیسی صفات کسی کے لیے تسلیم کرتا ہے

واضح رہے کہ شرک کی تیسری قسم “شرک فی الصفات ” کا بغور سمجھنا انتہائی ضروری ہے شرک فی الصفات کی تعریف یہ بیان ہوئی کہ جیسی صفات اللّہ تعالی کی ہیں ایسی ہی صفات کسی اور کی تصور کرنا شرک فی الصفات ہے

آئیں ہم شرک فی الصفات  کو قرآن مجید کے اصول کے مطابق سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ نور قرآن کی برکت سے شیطان لعین کے وار سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ شیطان لعین اور اس کے گمراہ ساتھیوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان کسی بھی طرح قرآن کریم کے صحیح اصول کو نہ سمجھ سکیں تاکہ یہ لوگ اپنے اس قول سے (کہ وہ الفاظ جو اللہ تعالی کی صفات کے لیے استعمال ہوئے وہ بندوں کے لیے استعمال کرنا شرک کہلاتا ہے) مسلمان کے دل و دماغ میں اس فتنے کو شرک فی الصفات کا نام دے کر راسخ کرا سکیں حالانکہ قران مجید میں کئی مثالیں موجود ہیں جن میں اللہ تعالی اور اس کے محبوبین کے درمیان بظاہر لفظی شراکت پائی جاتی ہے مگر اس سے شرک لازم نہیں آتا کیونکہ وہ صفات اللہ تعالی کے لیے ذاتی طور پر ہے بندوں میں اللّٰہ تعالی کی عطاء سے پائی جاتی ہیں

 مثال:1

 إنّ اللّٰه بالناس لرؤف رحیم

ترجمہ: بے شک اللّہ تعالی لوگوں پر مہربان رحم والا ہے (پ 2 ؛ البقرہ:143)

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے : لقد جاء کم رسول من أنفسکم عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم

ترجمہ: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے وہ تمہاری بھلائی کی نہایت چاہنے والے ہیں مسلمانوں پر کمال مہربان رحم فرمانے والے ہیں(پ 11 ،التوبۃ: 128)

غور کیجئے ایک طرف فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالی رؤف الرحیم ہے دوسری طرف فرمایا جا رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رؤف الرحیم ہے تو اس سے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا کہ ابھی تو یہ آپ نے کہا کہ شرک فی الصفات نام ہے صفات میں برابری کا تو یہ صفات تو ایک جیسی ہو گئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں کوئی برابری نہیں کیونکہ اللہ عزوجل کا رؤف و رحیم ہونا ذاتی طور پر ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رؤف رحیم ہونا اللہ تعالی کی عطا سے ہے جب اللہ تعالی نے انہیں یہ مقام و مرتبہ دیا ہے تو یہ فرق ہو گیا پھر برابری نہ رہی اور جب برابری نہ

رہی تو شرک بھی نہ ہوا

مثال 2

: اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ : اَللّٰه یتوفّی الأنفس حین موتھا

ترجمہ:* اللّٰہ تعالیٰ جانوں کو وفات دیتا ہے ،انکی موت

کے وقت

 (پ 24 :الزمر:42)

جبکہ قران کریم میں ہی ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے : قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون

ترجمہ: اے حبیب آپ فرما دیجئے کہ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ ، جو تم پر مقرر ہے ، پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (پ:21:السجدہ:11(

سوال یہ ہے کہ ایک طرف تو قران مجید فرماتا ہے کہ موت حضرت ملک الموت علیہ السلام دیں گے جبکہ دوسری طرف قران ہی میں بیان ہوتا ہے کہ موت دینے والا اللہ تعالی ہے لیکن درحقیقت دونوں آیتوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں بلکہ یہ بات ہے کہ حقیقی طور پر موت دینے والا تو اللہ تعالی ہی ہے حضرت ملک الموت علیہ السلام اللہ تعالی کی عطاء سے اس کے اذن سے یہ کام کرتے ہیں

آئیں اب آپ کو شرک کی حقیقت حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دیکھاتے ہیں

: حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ مصطفی جان رحمت صلی اللہ  تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :وإنی واللّٰه! ما أخاف  علیکم أن تشرکوا بعدی(صحیح بخاری : کتاب الجناںٔز)

ترجمہ: خدا کی قسم مجھے تم پر یہ اندیشہ نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے

علماء اسلام نے اس حدیث پاک کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ آپ  علیہ الصلوۃ والسلام کی امت شرک پر جمع نہیں ہوگی اللہ تعالی نے اس امت کو شرک سے محفوظ رکھا ہے لیکن اج کل کے مشرک سازوں نے اس حدیث پاک کے خلاف امت مسلمہ کی اکثریت کو مشرک قرار دینے کا مکروہ دھندا اپنا رکھا ہے

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرضوان کہ والد محترم علامہ مولانا نقی علی خان رحمت اللہ تعالی علیہ

اپنی کتاب اصول الرشاد میں شرک کے

متعلق فرماتے ہیں

اسی بنا پر شرک کو توحید کا ضد کہتے ہیں اور جس امر کا اثبات کلمہ توحید میں ماخوذ نہیں گو غیر کے لیے ثابت نہ ہو ، شرک سے خارج سمجھتے ہیں تو  جو شخص ورائے الوہیت ولزومات الوہیت کو غیر کے لیے ماننا شرک کے مصطلح قرار دیتا ہے قطعا معنی شرک سے ذہول اور مضمون کلمہ طیبہ لا اله إلا الله سے غفلت کرتا ہے ہاں شرک کبھی مطلق کفر وطیرہ وریا وغیرھما

معاصی میں بھی مستعمل ہوتا ہےمگرہماری بحث سے خارج کہ کلام قسم کفرمیں ھےجس کے احکام دیگر اقسامِ کفر سے مانند حرمتِ نکاح و ذبیحہ کے مغایر ہیں بلکہ عندالتعمّق  یہ اطلاقات برسبیل تجوّز ہیں اور یہ معنی مجازاتِ شرعیہ کے عدم تبادر،ان کا عندالاطلاق اس پرکھلا  قرینہ ، حقیقتِ شریعہ وہی ہے کہ بلا قرینہ مجرد اطلاقِ لفظ سے  متبادر ہوتا ہے تو اس معنی پر اطلاقِ شرک کسی صفت و فعل کی وجہ سےجب تک الوہیت کااثبات لازم نہ آئے صحیح نہیں۔

مثلا کوئی جاہل کسی کامل کی نسبت اولیاءِ امت سے اعتقاد کرے کہ وہ سب زمین کا حال ہر وقت وہرآن یکساں جانتا ہے اور جو اسے جس وقت جس جگہ سے پکارتا ہے فورا سن لیتا ہے توگو یہ عقیدہ غیر ثابت ہو،لیکن اگر اس کے ساتھ اسے علم و قدرت میں مستقل نہیں جانتا اور یہ سب خدا کے اعلام و اقتدار سے سمجھتا ہے اور نہ اسے واجب الوجود و مستحق  معبودیت اعتقاد کرتا ہے تو اس قدر عقیدہ سے مشرک نہ ہوگا

 یہ تھی مختصر سی شرک کے حوالے سے گفتگو اللہ تعالی ہمیں شرک سے محفوظ رکھے

آمین

از: حافظ محمد حسین قادری

متعلم درجہ سادسہ

حبیبہ اسلامک اکیڈمی

*اللّٰہ تعالٰی فاعل مختار ہے یا فاعل موجب مع أرادہ

عقیدہ ؛ *اللّٰہ تعالٰی فاعل مختار ہےاس کا فعل نہ کسی مرجّح کا دست نگر نہ کسی استعداد کا پابند*

دلیل: اس کی دلیل یہ ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

: *یفعل اللّٰہ مایشاء*

ترجمہ : اللّٰہ تعالٰی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے

دوسری دلیل:

*فعّال لّما یرید*

ترجمہ :

جو چاہے کرنے والا ہے

اس آیت کی تفسیر میں علامہ احمد بن محمد الصاوی المالکی جنہوں نے اپنی کتاب *حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین* میں لکھتیں ہیں کہ :

*ولا یجب علیہ شیٔ ، لأن أفعالہ بحسب إرادتہ*

ترجمہ: اس پر کچھ واجب نہیں ، بیشک اس کا فعل ارادہ کے ساتھ ہے

 اب آپ لوگوں کو بتاتا چلوں کہ کہ *فاعل مختار اور فاعل موجب  دونوں میں فرق*

فاعل مختار یعنی وہ کام جو اپنی مرضی سے کیے جاۓ بإرادہ، نہ کہ کسی چیز نے مجبور کیا ہو کام کرنےپر

اور فاعل موجب

یعنی وہ کام جو ضروری ہو کرنا ، واجب ہو

نوٹ: *إرادہ قدیم ہے نہ کہ حادث*

*المعتقد المنتقد* میں علامہ فضل رسول بدایونی علیہ رحمۃ نے یہ بات لکھی ہے کہ :* *کہ فعل الٰہی کے ارادے کا معنی یہ ہے کہ وہ نہ مجبور ہے  نہ مغلوب ہے اور نہ بھولے سے وہ کام کرنے والا ہے اور دوسری فعل کے لیے اس کے ارادے کا معنی یہ ہے کہ اس نے فعل کا حکم صادر*

کیا ( المعتقد المنتقد)

فلاسفہ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ: *فلاسفہ اللہ تعالی کو فاعل مختار نہیں مانتے بلکہ فاعل موجب مانتے ہیں کہ اس نے جو کیا ہے اس پر ضروری تھا اور اسے نہ کرنے کا اختیار نہیں تھا* ، اعلیٰ حضرت نے “*الکلمۃ الملھمہ*” میں اسکا ردّ بلیغ کیا ہے اور اپنے استدلال میں وہ تفصیل فرمائی کہ کسی فلسفی کو مجال گفتگو باقی نہ چھوڑی پہلے اسلامی عقیدہ یوں تحریر فرمایا: *اللّہ عزوجل فاعل مختار ہے اس کا فعل نہ کسی مرجّح کا دست نگر نہ کسی استعداد کا پابند یہ مقدمہ نظر ایمانی میں تو آپ ہی ضروری و بدیہی ہے*اور آپ نے وہ آیت ارشاد فرمائی بطور دلیل جو فقیر نے اوپر مقدمے میں ذکرکی کہ

*ترجیح بلا مرجح باطل نہیں ترجح بلا مرجح باطل ہے*:

اللہ تعالی اپنے افعال میں کسی مرجح کا محتاج نہیں بلکہ اس کا ارادہ ہی مرجح ہے جبکہ فلاسفہ کے نزدیک کوئی فاعل دو متساویوں میں اپنی طرف سے ترجیح نہیں پاسکتا کہ اس کی نسبت سب کی طرف برابر ہے اگر خود ترجیح دے توبلا مرجح ہو اور یہ محال ہے

 اس بنیاد کو یوں مشہور کیا کہ ترجیح بلا مرجح باطل اور محال ہے لیکن اعلی حضرت نے باری تعالی کو فاعل مختار ثابت کرنے کے ضمن میں اس بنیاد کو ہی اکھاڑ پھینکا پہلے عام مثالوں سے تفہیم کی، فرمایا :  

*یوں ہی عقل انسانی میں بھی آدمی اپنے ارادے کو دیکھ رہا ہے کہ دو متساویوں میں سے کسی مرجح کے آپ ہی تخصیص کر لیتا ہے دو جام یکسا ایک صورت ایک نظافت کے دونوں میں ایک سا پانی بھرا ہو اس سے ایک قرب پر رکھے ہو یہ پینا چاہیے ان میں سے جسے چاہے اٹھا لے گا

 ایک مطلوب تک دو راستے

بالکل برابر ہو یکساں ہو جسے چاہے گا چلے گا ایک سے دو کپڑے ہوں جسے چاہیں پہنے گا پھر اس فعّال لّما یرید کہ ارادے کا کیا کہنا* (الکلمۃ الملھمہ ، فتاویٰ رضویہ جلد 27 )

پھر *”ترجیح بلا مرجح*” پر کلام یوں فرمایا

” اقول: *یہاں سے ظاہر ہوا کہ محال ترجح بلا مرجّح ہے یعنی دومتساویوں میں سے ایک خود ہی راجح ہو جائے

 یہ یہاں نہیں کہ نفس ارادہ مرجح ہے اور ترجیح بلا مرجح میں مصدر اگر صرف مصدریت پر ہو یا مبنی للفاعل تو ہرگز محال نہیں بداہۃً واقع ہے یہاں مبنی للمفعول ہو تو محال کہ یہ وہی ترجح بلا مرجح

ہے جو کہ محال* (الکلمۃ الملھمہ فتاویٰ رضویہ جلد 27)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالی فاعل مختار ہے یعنی جو وہ کام کرتا ہے اپنی مرضی سے کرتا ہے بارادہ کرتا ہے اس کا فعل نہ کسی مرجح کا دست نگر ہے نہ کسی استعداد کا پابند ہے اس پر کوئی کام ضروری نہیں یعنی اس پر کچھ واجب نہیں جیسے فلاسفہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ سے بالایجاب(بطور اضطرار) صادر ہوگا کہ مومن کو انعام اور کافر کو عذاب دے گا، جبکہ اہلسنت کہتے ہیں اللہ پر کچھ واجب نہیں بلکہ انعام دینا اس کا فضل ہے اور عذاب دینا عدل۔۔۔

اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو اور اللہ تعالی ہمارے عقائد کی حفاظت فرمائے اور دین اسلام کو اللہ تعالی غالب فرمائے

 آمین

 جزاک اللّہ خیراً

از:  *حافظ محمد حسین قادری*

*متعلم حبیبیہ اسلامک اکیڈمی*

علمائے عرب کے خدمت میں ایک گلدستہ روح افزا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(یہ تحریر دارالملک کے آفیشل پیج پر شائع ہوئی ہے اور ہمارے حساب سے اس تحریر میں اردو ادب کی ندرت کاحسین جلوہ نظر آ رہا ہے اردو ادب کی چاشنی کو مزید پھیلانے کی غرض سے ہم اس تحریر کو مکرر شائع کر رہے ہیں۔اور یہ تحریر ان ادیبوں کا  جواب ہے جو کہتے ہیں کہ مذہبی ذہن رکھنے والے لوگ اچھا ادب نہیں لکھ سکتے۔ وہ اس تحریر کو ملاحظہ فرمائیں کہ عورت شباب و کباب کے علاوہ بھی۔۔۔۔ عورت شباب و کباب سے دور رہ کر بھی اچھی تحریر لکھی جا سکتی ہے اور خوبصورت حسین پیرائے میں لکھی جا سکتی ہے۔ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 سیدی حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی ذاتِ بابرکات، جامع کمالات ومجموع الصفات ہے، آپ کے علمی جاہ وجلال والے قلم کا طرز استدلال وقوت استدلال بے مثال اور تحقیقات جلیلہ وتدقیقات انیقہ خالی از قیل وقال ہیں. آپ کی بے نظیر شخصیت کے نام لیوا فقیر کے نزدیک دو قسم کے ہیں:

ایک وہ جو محض تفریح طبع یا وقت گزاری کے لیے لیتے ہیں اور آپ کے نام کے ساتھ معانقہ کرتے ہوئے نہ تو کسی قسم کی دشواری میں مبتلا ہونا چاہتے ہیں اور نہ ہی شاید وہ اس کے اہل ہوتے ہیں.

دوسرے وہ ہوتے ہیں جو آپ کے مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے نام وذات کے ساتھ آپ کے مسلک کو فروغ دینے کی نیت سے سنجیدگی کے ساتھ معانقہ کرتے ہیں، اس لیے کہ مسلک وملت کی خدمات ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں.

اسی دوسری قسم سے عالمی ادارے دار المَلِک کا گہرا رشتہ ہے، جس نے مختصر سی مدت میں لائق صد تحسین اور قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں، اور یہ صرف شعبہ نشر واشاعت سے موسوم نہیں’  بلکہ ایک مقصد ہے، جس کی منصوبہ بند تعلیمات سیدی اعلی حضرت علیہ کے مطابق ہوئی ہے، آپ کا مندرجہ ذیل فرمان اس ادارے کے اساسی دستور کا جزء غیر منفک ہے، آپ فرماتے ہیں: ان شاء اللہ العزیز زمانہ ان بندگانِ خدا سے خالی نہ ہوگا جو مشکل کی تسہیل، معضل کی تحصیل، صعب کی تذلیل، مجمل کی تفصیل کے ماہر ہوں. بحر سے صدف سے ،صدف سے گوہر، بذر سے درخت، درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اللہ تعالی قادر ہوں (“فتاوی رضویہ: ج:٨، ص:٢٥١، امام احمد رضا اکیڈمی)

اس ادارے میں متنوع شعبہ جات ہیں، جہاں مختلف علوم وفنون کے کہنہ مشق ماہرین اپنی قیمتی تحقیقی خدمات پیش کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں. انہیں میں ایک شعبہ #مجمعــالإمام_أحمد_رضا_للبحوث_والدراسات_الإسلامية ہے، اس شعبہ نے ادارے کی وقعت میں چار چاند لگا دیے ہیں اور اہلِ دل کی نگاہ میں اسے ایک منفرد حسن وگلکاری عطا کی ہے.

 سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ہمہ گیر شخصیت کے تبحرِ علمی، وسعتِ فکر و نظر اور مختلف جہات پر متعدد پہلوؤں سے تحقیق وتصنیف کا کام ہوا، اور بے شمار خوشہ چینوں نے اپنے گلستان قرطاس کو آپ کے گلہائے رنگا رنگ سے معطر کیا۔ لیکن یہ امر نہایت تعجب خیز ہے کہ علماے عرب کے مابین آپ کی بیش بہا تصنیفات و تالیفات نہ تو شائع ہو سکیں اور نہ ہی ان کا تعارف عام ہوا. ایک طرف سیدی اعلی حضرت کا والہانہ انداز میں تذکرہ، اور دوسری طرف آپ کے علمی سرمایہ کی اشاعت سے بے اعتنائی، محبینِ اعلی حضرت کے لیے باعثِ استعجاب ہے. #دارالمَلِک نے اس علمی تشنگی کو دور کرنے کا عزم بالجزم کیا؛ تاکہ سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق ہونے والی کوتاہی اور غفلت کی تلافی کی جا سکے، اور آپ کی عالمانہ، محققانہ، مجددانہ، مجتہدانہ میراث کو عالمِ عرب تک پہنچایا جائے، اس طرح ایک دیرینہ قرض جو تاحال باقی تھا، #دارالمَلِک نے اس کے ادائیگی کا بیڑا اٹھایا. شاید ازل ہی سے اس خدمتِ جلیلہ کی ذمہ داری #دارالمَلِک کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی، اور “قرعہ فال بنامِ من دیوانہ زدند” کے مصداق، یہ عظیم بار اسی کے کاندھوں کے لیے منتخب کیا گیا. اسی لیے یہ ادارہ اس علمی خلاء کو پُر کرنے کے لیے ہمہ تن من دھن سرگرم ہے، سیدی اعلی حضرت کی تصانیف و تالیفات کو اہل عرب کے مابین متعارف کرانے اور آپ کے افکار ونظریات کو وہاں کے علمی حلقوں تک پہنچانے میں اپنا دینی فریضہ سمجھ کر شب وروز کوشاں ہے. چنانچہ #دارالملک تاحال دلائل و براہین سے اراستہ، تحقیقِ انیق اور تدقیقِ عمیق سے پیراستہ تقریباً دس رسائل پیش کر چکا ہے، جنہیں علمائے عرب نے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور عوام و خواص نے پسند کیا. رضویات کے حوالے سے مصر و دیگر عرب ممالک میں ہونے والے متعدد کاموں میں خواہ وہ مواد کی فراہمی ہو یا تعارف کا معاملہ #دارالملک نے نمایاں کردار ادا کیا ہے. مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ایک تازہ مثال رسالہ «الجهود الكلامية والصوفية للشيخ أحمد رضا خان القادري دراسة نقدية» ہے، جو مصر کی ایک محقّقہ نے ایم اے کے لیے سیدی اعلی حضرت پر تحریر کیا، #دارالملک نے انہیں مطلوبہ مواد فراہم  کرنے کے ساتھ قدم قدم پر ان کی اعانت بھی کی.

بایں ہمہ، رضوی میکدے کے کچھ بادہ خوار ایسے بھی تھے جن کی پیاس تاحال نہ بجھی تھی، لہٰذ ساقی کی عطا کا پیالہ “#مجموع_رسائل_الإمام_أحمد_رضا_خان” کی صورت میں جلوہ گر ہوا. ایک ایسا گراں قدر خزانۂ علم و حکمت اور بے نظیر تحقیقی شاہکار، جو عالمِ اسلام کے لیے نایاب تحفہ ہے. اس کے پسِ پشت نہ کوئی معاوضے کی غرض ہے، نہ نام ونمود یا شہرت و تحسین کی طلب؛ بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ مجددِ اعظم کے سلسلے میں اپنے فرض سے عہدہ برآ ہوں اور عالمِ عرب کو آپ کی تعلیمات سے روشناس کرائیں. ان شاء اللہ یہ شاہکار عالمِ اسلام کے لیے عشق و عرفان کا وہ تاج محل ثابت ہوگا جو محبت کی نشانی تاج محل سے کہیں زیادہ دل آویز اور مستحکم ہے.

 اس علم و عرفان کے تاج محل کی تفصیل یہ ہے کہ اس کی چھ عظیم منزلیں ہیں جنہیں جلدوں کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے. پہلی جلد باب کی صورت میں چار کمروں پر محیط ہے:

 پہلا کمرہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی سیرتِ مبارکہ کے جواہر پاروں سے مزین ہے.

 دوسرا کمرہ آپ کے مشائخ واساتذہ کی معلومات سے آراستہ ہے.

 تیسرا کمرہ آپ کے تلامذہ، خلفاء اور اجازت یافتہ علما کے تذکروں سے لبریز ہے.

 چوتھا کمرہ مختلف علوم و فنون میں آپ کی مہارت، عبقریت اور نادر تحقیقات وتدقیقات کا گنجینہ ہے.

ہر کمرہ اپنے اندر فصلوں کی صورت میں مضبوط ستون اور مباحث کی شکل میں دیدہ زیب دیواریں لیے ہوئے ہے، جنہوں نے اس عمارت کی اہمیت وافادیت میں چار چاند لگانے کا کام کیا ہے.

 دوسری منزل یعنی جلد میں دو مضبوط فصلوں کے ستون قائم ہیں؛ پہلا ستون فنِّ تفسیر میں آپ کی تحقیقات و توجیہات کے تابناک موتیوں سے جگمگا رہا ہے، جبکہ دوسرا ستون الفاظِ قرآن کے معانی ومطالب کی خوشبو سے معطر ہے. ہر ستون کے اندر متعدد علمی و فکری مباحث کی دیواریں کھڑی ہیں، جن پر تحقیق و تدقیق کے نفیس نقش و نگار کندہ ہیں.

 تیسری منزل یعنی جلد سات فصلوں کے ستونوں پر قائم ہے، ہر ستون اپنی ساخت میں منفرد اور اپنے مضمون میں وقیع ہے. پہلا ستون: حدیث کے معنی ومفہوم، تاریخِ تدوین اور اس کے مراحل، حدیث و اثر میں فرق، برصغیر کے جلیل القدر محدثین اور علمِ حدیث میں ان کی خدمات، سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ان سے اجازت اور آپ کی خدمات پر مشتمل ہے. دوسرا ستون: علمِ حدیث میں آپ کی تصانیفِ جلیلہ کا تعارف لیے ہوئے ہے. تیسرا ستون: علمِ درایت پر قائم ہے. چوتھا ستون: علمِ روایت پر مشتمل ہے.

 پانچواں ستون: اصولِ حدیث میں آپ کی مہارتِ تامہ کا مظہر ہے. چھٹا ستون: احادیثِ مختلفہ میں آپ کے موقف کی توضیح پر مبنی ہے. اور ساتواں ستون: علومِ حدیث میں آپ کی عبقریت اور کمالات کا بیان اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے. ان ستونوں میں سموئے ہوئے مباحث کی دیواریں نایاب علمی خزانے کی الماریاں اپنے اندر جمع کیے ہوئے ہے.

 چوتھی منزل تین کمروں پر مشتمل ہے. پہلا کمرہ: سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے عقائد و نظریات اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات کی اصلاح سے معمور ہے. دوسرا کمرہ: امتِ مسلمہ کی سیاسی اصلاح اور اس حوالے سے آپ کی رہنمائی سے مزین ہے. تیسرا کمرہ: آپ کے معاشی افکار ونظریات، اسلامی تجارت وبینکاری میں آپ کی وقیع تحقیقات، اور مسلمانوں کے اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کی تدابیر پر مشتمل ہے. اس کے مؤلف مایہ ناز محقق ڈاکٹر انوار احمد بغدادی ہیں، جنہوں نے اسے بڑی عرق ریزی اور نہایت دل نشین اسلوب سے تالیف کیا ہے.

 پانچویں منزل ایک دلکش گلستان کی مانند ہے، جس کے تین حسین و جمیل صحن ہیں، اور ہر صحن اپنی ساخت، حسن اور معنویت میں نرالا ہے. پہلا صحن: افتتاحی خطبات کے خوشبو بھرے پھولوں سے آراستہ ہے، ہر پھول اپنی رعنائی اور نکہت میں اپنی مثال آپ ہے.

 دوسرا صحن: اسانید و طرق کی بہاروں سے مہکا ہوا ہے، جو چار مضبوط ستونوں پر قائم ہے: پہلا ستون: فقہ میں اسانید و طرق، دوسرا ستون: حدیث میں اسانید و طرق، تیسرا ستون: مصافحات کے سلسلے، چوتھا ستون: سلاسلِ صوفیہ میں اسانید وطرق.

 تیسرا صحن: اجازات ومرویات کے نایاب خزینے سے مزین ہے، جس کے دو کشادہ کمروں میں علمی جواہر سجے ہوئے ہیں: پہلا کمرہ: علماء عرب کو دی گئی اجازات پر مشتمل ہے،  دوسرا کمرہ: علماءِ ہند کو عطا کی گئی اجازات کا مرکز ہے، دونوں پندرہ دقیق مباحث پر مشتمل ہیں، اور ہر بحث اپنی معنوی عظمت میں ایک قیمتی پتھر کی مانند ہے.

سیدی حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فقہ وافتا اور ان کے اصول کو جلا بخشی ہے، آپ نے مسلک حنفیت کو اردو عربی میں اپنی کتب ورسائل وفتاوی کے ذریعے ایسا منقح فرمایا کہ آنے والے کئی صدی تک کے لیے احناف کو رسم افتا اور فقہ واصول کے اکثر ابواب کے حل سے بےنیاز کر دیا. چھٹی منزل میں ایسے ہی قیمتی کمروں کی ایک قطار ہے، جو فقہ و افتا کے اصولی جواہر سے آراستہ ہیں اور اقوالِ سلف کے استقصاء، احتمالِ شقوق کے استیعاب، اور ضوابطِ کلیہ جیسی آہنی دیواروں میں محفوظ ہے. ان کمروں کی چھتوں سے دلائل کی خوشبو پھوٹتی ہے، اور دیواروں پر علمی انوار و تجلیات کی ایسی نقش و نگار ہیں کہ ماہرین حیرت زدہ اور حاسدین انگشت بدنداں رہ جائیں. ہر کونے میں ایک ایسا لعل جڑا ہے جس کے پیچھے نہ جانے کتنے کوہِ نور قربان ہیں، اور جس کی پہچان کسی ماہر جوہر شناس ہی کو ہوسکتی ہے، جبکہ ہمیں تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے. پھر بھی جرات کرتے ہیں؛

 پہلا کمرہ: ایک نادر و نایاب کان ہے، جس کا نام أجلى الإعلام أن الفتوى مطلقا على قول الإمام ہے، اس میں قول امام پر فتوی دینے کے ایسے انمول ہیروں کی قطاریں ہیں جن کی مثال تقریباً نایاب ہے.

 دوسرا کمرہ: بیش بہا اصولی موتیوں کی کان جلي النص في أماكن الرخص ہے، اس میں مقاماتِ رخصت میں واضح نصوص کے جواہر ہیں، اور ہر گوہر ایک فقہی مسئلے کی کنجی ہے.

 تیسرا کمرہ: جو سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے فیوض وبرکات کی کان ہے، وہ الفضل الموهبی في معنى إذا صحّ الحديث فهو مذهبي کے عنوان سے جگمگا رہا ہے. یہ اپنے اندر امامِ اعظم ابو حنیفہ کے اس مشہور فرمان: “جب کوئی حدیث صحت کو پہنچے تو وہی میرا مذہب ہے” کے نورانی جلوے بسائے ہوئے ہے.

یہ تینوں کمرے ایک ہی حسین ستون سے جڑے ہیں، وہ ستون اعلی حضرت کی اصولی بصیرت، استنباطی مہارت اور ضابطے سازی کا مجموعہ ہے.

 اس مختصر سی مدت میں چھ منزلوں پر مشتمل یہ عظیم الشان تاج محل کا معرضِ وجود میں آ جانا یقیناً سیدی حضور اعلی حضرت -علیہ الرحمہ- کے فیوض و برکات کا صدقہ ہے، ورنہ اس میدان کے شہسوار خوب جانتے ہیں کہ تحقیق کا میدان  وہ بھی عربی زبان میں کس قدر وسیع اور جفا کش ہے، بالخصوص دینیات میں اور وہ بھی مسلکِ اعلی حضرت کے آب و تاب کے ساتھ. مزید برآں موجودہ پر فتن دور میں، جب ہر طرف فکری یلغار اور فتنہ سامانی کا سیلاب رواں ہے، ایسے حالات میں بانیِ دار الملک، مولانا شیراز احمد نظامی ازہری اور ان کے رفقاء نے ان تمام رکاوٹوں کی پرواہ کیے بغیر جس عزم و استقلال اور جس بلند فکری شان کے ساتھ یہ کارنامہ انجام دیا ہے، وہ نہ صرف لائق تقلید ہے بلکہ تحسین و ستائش کے اعلیٰ ترین مراتب کا مستحق بھی ہے.

ان شاء اللہ! علمائے کرام کے توسط سے درِ رضا میں اسی طرح حاضری جاری رہی تو یہ چھ منزلہ عمارت بہت جلد تیس منزلوں بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ کی رفعتوں کو چھو لے گی، کیونکہ یہ کوئی کاغذ کے پھول نہیں، جو خوشبو کے جامہ سے محروم ہوں، اور نہ ہی کچی مٹی پراگنے والے وہ لالہ زار ہیں جن کے نازک چہرے خزاں کی پہلی تپش ہی سے مرجھا جائیں، بلکہ یہ تو مصنف اعظم، مجدد اعظم کی صورت میں خدا رسیدہ بزرگ یعنی سیدی و مرشدی، حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی تصنیفات وتالیفات کو عام کرنے کے تذکروں کا سدا بہار گلشن ہے، جس میں خزاؤں کو بہار میں بدل دینے کی قدرت ہے، اور یہ عشق و فکر کا وہ ابدی چراغ ہے جس میں تہ بہ تہ پھیلی تاریکیوں کو چیر کر اجالوں سے بھر دینے کی طاقت ہے ، ساتھ ہی جہاں قدم رکھے وہاں افق در افق نور ہی نور پھیلا دے. انہیں کی نسبت و برکت سے یہ علمی و فکری تاج محل عنقریب تیس منزلوں کی عظمت کو پہنچے گا، اور عالمِ عرب بلکہ پورے عالم اسلام میں اپنی نوعیت کا پہلا لازوال عجوبہ شمار ہوگا. اللہ تعالیٰ دارین کی سعادتوں سے مالا مال فرمائے. آمین ثم آمین.

فصاحتِ قرآن پر اعتراض اور اس کا جواب

اعتراض

قرآن کریم میں انبیاء کرام کے قصے بار بار بیان کیے گئے ہیں۔ بعض کے بقول حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر 120 جگہ آیا ہے۔ اور ابن عربی کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ 25 آیات میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ 90 آیات میں ذکر ہوا ہے۔ یہ بات خلافِ فصاحت ہے۔

جواب

وہ تکرار خلافِ فصاحت ہوتی ہے جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ لیکن قصصِ قرآنی کی تکرار بے شمار فوائد پر مشتمل ہے۔ علامہ بدر بن جماعہ نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے: المقتنص فی فوائد تکرار القصص، جس میں کئی حکمتیں بیان کی ہیں:

تکرارِ قصص کے فوائد

  1. زیادتیِ معنی

ہر جگہ کچھ نہ کچھ اضافہ ہوتا ہے یا کسی نکتے کے لیے مختلف الفاظ لائے جاتے ہیں، اور یہ بلغاء کا خاصہ ہے۔

  1. مختلف جماعتوں تک رسائی

ایک جماعت ایک قصہ سن کر رخصت ہو جاتی، پھر دوسری جماعت آتی۔ اگر تکرار نہ ہوتی تو ایک قوم صرف حضرت موسیٰ کا قصہ سنتی اور دوسری حضرت عیسیٰ کا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ سب قومیں سب قصے سنیں۔

  1. مختلف اسالیب میں اعجاز

ایک ہی مضمون کو مختلف اسالیب میں بیان کرنے میں فصاحت کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔

  1. احکام کے مقابلے میں قصص کی نوعیت

احکام کی تکرار کم ہے لیکن قصص کی تکرار زیادہ ہے، تاکہ نصیحت اور عبرت بار بار سامنے آئے۔

  1. اعجازِ قرآن کی وضاحت

جب ایک ہی قصہ کئی جگہ مختلف انداز سے آیا اور کفار پھر بھی اس کی مثل نہ لا سکے تو ان کا عجز اور نمایاں ہو گیا۔

  1. اہلِ عرب کی حجت ختم کرنا

اگر ایک قصہ صرف ایک ہی جگہ آتا تو اہلِ عرب کہتے کہ تم بھی اسی جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ لہٰذا مختلف سورتوں میں تکرار کے ذریعے ان کی حجت ختم کر دی گئی۔

  1. دلچسپی اور کشش

جب ایک ہی قصہ مختلف انداز میں بار بار ذکر کیا گیا تو سننے والے اکتاہٹ کے بجائے نئی لذت پاتے ہیں۔ یہی کلامِ الٰہی کا خاصہ ہے کہ باوجود تکرار کے نہ لفظ بوجھل ہوتا ہے نہ سننے والے کو ملال ہوتا ہے۔

دوسرا اعتراض

مان لیا کہ مختلف اسالیب میں تکرار فصاحت کے منافی نہیں، لیکن بعض جگہ ایک ہی جملہ بار بار آیا ہے۔ جیسے:

سورہ شعراء: 8 بار

سورہ قمر: 4 بار

سورہ رحمن: 31 بار

سورہ مرسلات: 10 بار

جواب

ان سورتوں میں بھی تکرار بے فائدہ نہیں، بلکہ ہر بار مختلف موقع اور تعلق کے ساتھ آئی ہے:

سورہ شعراء: ہر قصے کے بعد إِنَّ فِی ذَلِكَ لَآیَةً آیا ہے تاکہ بتایا جائے مومنین کامیاب اور کافر ہلاک ہوئے۔

سورہ قمر: قصصِ انبیاء کے بعد وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ آیا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

سورہ مرسلات: ہر نشانی کے بعد آیا کہ قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔

سورہ رحمن: ہر نعمت کے ذکر کے بعد فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان تاکہ انسان و جن اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھیں۔

یہ طرز دیگر آسمانی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ مثال کے طور پر عہدِ عتیق کی کتاب “مزمور 136” میں ہر آیت کے بعد إن رحمته إلى الأبد 28 بار آیا ہے۔

(ماخوذ از “سیرت رسول عربی” علامہ نور بخش توکلی علیہ الرحمہ صفحہ ٢٨٩ تا ٢٨٢)

کیا امام فجر و ظہر کی سنت پڑھے بغیر نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟

سوال: فجر و ظہر میں بلا سنت پڑھے کوئی نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر پڑھائے تو ایسی حالت میں نماز کیسی ہوگی؟

المستفتی: از بنارس

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب:

اگر اتنا وقت باقی ہے کہ سنت پڑھ لینے کے بعد فرض ادا کرلے گا تو سنتوں کے پڑھنے کے بعد نماز پڑھائے۔ فجر کی سنت کا تاکد بہت زیادہ ہے، یہاں تک کہ قریب بوجوب ہے، بلکہ بعض فقہا اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ اگر سنت فجر بغیر پڑھے ہوئے امامت کرے تو اس کا ترک لازم آئے گا کہ اب اس کی قضا بھی نہیں۔ اور بلا شبہہ بغیر عذر سنت فجر کا ترک اساءت ہے اور ظہر کی سنتیں اگرچہ بعد فرض پڑھ لے گا مگر بلا عذر اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنت قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائے۔ جماعت قائم ہوچکنے کے بعد مقتدی کا جماعت میں مشغول ہونا اور سنت کا مؤخر کرنا عذر شرعی کی وجہ سے ہے مگر بلا وجہ امام کا مؤخر کرنا سنت کے خلاف ہے۔

کتبہ:

صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ

[فتاویٰ امجدیہ، ج: 1، ص: 200]

*کیف تصیر العالِم ؟ – ایک طالبعلم کے لیے راہِ علم*

علم کے سمندر میں غوطہ لگانے والے طلبہ کے لیے یہ سات سادہ مگر طاقتور اصول ایک خزانہ ہیں!

اگر تم عالم بننا چاہتے ہو تو اس ترتیب کو اپناو:

✍️ *اُكْتُبْ* – سبق لکھو، تاکہ ذہن میں بیٹھے۔

🧠 *اِفْهَمْ* – سمجھو، تاکہ رٹ نہ ہو بلکہ فہم ہو۔

📚 *احْفَظْ* – یاد کرو، تاکہ علم محفوظ رہے۔

🔁 *رَاجِعْ* – دہراؤ، تاکہ ذہن تازہ رہے۔

🗣️ *سَمِّعْ* – سناؤ، تاکہ تلفظ اور ترتیب درست ہو۔

📖 *عَلِّمْ* – سکھاؤ، تاکہ علم پختہ ہو۔

🕊️ *اِعْمَلْ* – عمل کرو، تاکہ علم نافع بنے۔

🌟 یہی ہے وہ ترتیب جو ایک عام طالبعلم کو *”عالم ربانی”* بنا سکتی ہے، *ان شاء اللّٰه!*

🌹مدارس میں فنی مہارت کا فقدان🌹

محمد شاہد علی مصباحی

روشن مستقبل دہلی

تحریک علماے بندیل کھنڈ

👈 بہت سے لوگ تو سرخی پڑھتے ہی نوازنا شروع کردیں گے مگر مجھے ان کی قطعی فکر نہیں۔ لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمارے یہاں فنی مہارت کا فقدان ہے۔

آپ خود اپنی انگلیاں پکڑیں اور ماہرین تفسیر، ماہرین اصول فقہ، ماہرین اصول حدیث، ماہرین منطق، ماہرین فلسفہ، ماہرین فلکیات، ماہرین کلام، ماہرین نحو، ماہرین صرف وغیرہ تلاش کرنا شروع کریں، یقین جانیں آپ کے صرف ایک ہاتھ کی انگلیوں کے پورے بھی ختم نہ ہوں گے اور ماہرین ختم ہو جائیں گے۔

کیا کبھی سوچا ایسا کیوں ؟

اس کی تین وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ: ہمارے مدارس نے ایسا نظام نہیں بنایا کہ اس طرح فنون میں تخصص کا اہتمام کیا جاے۔

دوسری وجہ: اہل مدارس نے نظام تعلیم ایسا نہیں بنایا کہ ایک استاد کو ایک ہی فن کی کتابیں پڑھانے کو دی جائیں۔

تیسری وجہ: ہمارے اساتذہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ہر فن کی کتابیں پڑھائیں ورنہ لوگ کہیں گے کہ اس کو بقیہ فن نہیں آتے۔ یا اگر میں ایک ہی فن پڑھاؤں گا تو میرے بقیہ فنون کمزور ہوجائیں گے۔

👈 جبکہ پہلی صورت میں دوسروں کے لیے اپنے علم سے کھلواڑ کرتے ہیں اور دوسری صورت “طلب الکل فوت الکل” کے قبیل سے ہے.

👈 استاد کے اپنے فن میں ماہر نہ ہونے کے نقصانات

پہلا نقصان: اگر استاد اپنے فن میں ماہر نہیں ہے تو وہ اس فن کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوگا اور جو شخص خود ہی فن کی باریکیوں سے آگاہ نہ ہو بچوں کو کیسے مطمئن کرے گا ؟

لہذا بچوں کی زندگی سے کھلواڑ کے سوا اس سے کچھ اور حاصل نہیں ہو سکتا۔

دوسرا نقصان: جب ہمیں کسی فن پر کام کرنے والوں کی ضرورت محسوس ہوگی تو وہ کام ہرگز نہ ہو سکے گا۔

تازہ واقعہ: اسی ہفتہ ہم نے کچھ علوم پر مخصوص کورس تیار کرنے کی غرض سے افراد کی تلاش شروع کی تو سواے دو ایک افراد کے کوئی اس پر تیار نہ ہوا کسی نے کہا کہ وقت نہیں ہے اور کسی نے کھل کر بتایا اس طرز پر کام کرنا مشکل ہے کیوں اس انداز سے کبھی سوچا نہیں لہذا پریشانی ہوگی۔

👈 اس پریشانی کا حل ہمیں بھی کالیجوں اور یونیورسٹیوں کی طرح اساتذہ کو ایک فن کی کتابیں پڑھانے کو دینی چاہیے۔

اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ طلب الکل کے فارمولے کو چھوڑ کر کسی ایک فن میں ملکہ حاصل کریں۔ اس سے خود ان کو بھی فائدہ ہوگا اور طلبہ کو بھی بے انتہا فائدہ ہوگا۔ ساتھ ہی آپ اس فن کے لیے اپنی بہترین خدمات انجام دے سکتے ہیں۔

کاش ہم اس جانب بھی فکر کریں!..

22/12/2021

*وارث علوم اعلیٰ حضرت مظہر امام علم وفن امام المتکلمین مناظر اعظم فقیہ النفس حضرت علامہ مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی* اطال ﷲ عمرہ

*خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند* علیہ الرحمہ

*فقہی اختلاف کے حدود وآداب*

اللہ کے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالذات علمائے مجتہدین کو اور بالطبع دوسرے علماء کو اپنا جانشین و وارث قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا:

*اَلْعُلَمَاء وَرَثَةُ الْاَنْبِيَآء*

’’علماء انبیاء کے وارث ہیں‘‘۔

(سنن ابی دائود، کتاب العلم، 1: 317، الرقم: 3641)

ان وارثانِ انبیاء اور حاملینِ علمی نبوی نے اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات و فرمودات میں غوروفکر کرکے درج زیل پانچ مقاصدِ شرع کا تعین کیا ہے:

ایمان کی حفاظت

جان کی حفاظت

نسب کی حفاظت

عقل کی حفاظت

مال کی حفاظت

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

*مَنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِی الدِّيْن*

’’ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے‘‘۔

(صحیح بخاری، کتاب العلم، 1: 39، الرقم: 71 )

یہاں فقہ سے مراد انہی پانچ مقاصد کا حصول ہے۔

مجتہدین عظام نے اپنے اپنے دور میں اپنے اپنے طور سے فقہ کی تعریف کی ہے، لیکن سب کا عطر مجموعہ اور نچوڑ جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، وہ یہ ہے:

*فقہ مقصدِ شرع کے ادراک کا نام ہے*

(فتاویٰ رضوية)

الفاظ بہت کم ہیں، مگر جتنی بھی تعریفیں اس سلسلے میں کی گئیں ہیں سب کو جامع ہیں۔ آگے فرماتے ہیں:

’’مِنْ‘‘  کا ترجمہ ’’سے‘‘ اور ’’ا ِلٰی‘‘ کا ترجمہ ’’تک‘‘ جاننے کا نام فقہ نہیں ہے۔

(فتاویٰ رضوية)

یعنی جیسے قرآن میں مِنْ آیا ہے، اِلٰی آیا ہے، فِیْ آیا ہے، ان کا ترجمہ جاننے کا نام فقہ نہیں ہے۔ بلکہ فقہ مقصدِ شرع کے ادراک کا نام ہے۔ شریعت ہم سے کیا مطالبہ کرتی ہے؟ کیا چاہتی ہے؟ یہ جاننا ضروری ہے۔

مثال کے طور پر زکوٰۃ و صدقات کے مصارف قرآن کریم میں آٹھ بیان کئے گئے ہیں۔ رسول کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں آٹھوں مصارف کو زکوٰۃ دی گئی مگر چونکہ فقہ نام ہے مقصد شرع کے ادراک کا تو صحابہ کرام نے غوروفکر کیا کہ آٹھوں مصارف میں سے ہر ایک میں زکوٰۃ کا مقصدِ شرع کیا ہے؟ اور ہر ایک میں اس کا مقصد شرع آج بھی پایا جاتا ہے یا نہیں؟ صحابہ کرام نے سمجھا کہ غیر مسلموں کو تالیف قلب کے لئے زکوٰۃ دینے کا جو مقصد تھا آج وہ مقصد باقی نہیں رہا تو انہوں نے اجماع کرلیا کہ آج زکوٰۃ کا آٹھواں مصرف مولفۃ القلوب نہیں رہا۔ اب صرف سات ہی مصارف پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جائے گی۔ اب اس کے بعد اگر کوئی شخص مولفۃ القلوب کو زکوٰۃ دیتا ہے تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

دوسری طرف نصِ قرآنی بظاہر صاف ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صراحت کے ساتھ فرمایا کہ مولفۃ القلوب کو زکوۃ دی جائے گی لیکن صحابہ نے اجماع کرلیا کہ مولفۃ القلوب کو زکوٰۃ نہیں دی جائے گی، اس لئے کہ صحابہ جانتے اور سمجھتے تھے کہ مولفۃ القلوب کو زکوٰۃ دینے سے مقصود کیا ہے؟ جب تک وہ مقصد باقی رہا، ان کو زکوٰۃ دی گئی اور جب وہ مقصد باقی نہیں رہا تو مولفۃ القلوب کو زکوٰۃ دینا بند کردیا گیا۔

بالفرض اگر آج کئی مصار ف ایسے ہوں جن سے مقصدِ شرع کی تکمیل نہیں ہوتی ہے یا مقصدِ شرع کی تکمیل میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی ہے تو سات سے چھ، چار یا تین بھی کیا جاسکتا ہے، یہ بالفرض کہہ رہا ہوں، اگرچہ واقعہ میں ایسا اب تک نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ فقہ درحقیقت مقصدِ شرع کے ادراک اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا نام ہے۔

تجزیہ و تحلیل کی اہمیت

آج ہم بس کتابیں پڑھ لیتے ہیں، اصولوں کا انطباق نہیں کرتے، جس کی وجہ سے اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے متقدمین فقہا نے نصوص شرعیہ میں تجزیہ و تحلیل سے ان پانچ مقاصدِ دین، ’’ایمان، جان، عقل، نسب اور مال کی حفاظت‘‘ کو بیان کیا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ:

ایمان کی خاطر جان بھی جاسکتی ہے، جان کی خاطر ایمان نہیں دیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اضطراری حالت میں کلمہ کفر ادا کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے کہ جان بچالو، اس لئے کہ کلمہ کفر کا بول دینا اور ہے، کفر کا ارتکاب کرنا اور ہے۔ ایمان و کفر کا تعلق دل سے ہے، اگر دل مطمئن ہے تو اضطراری حالت میں کلمہ کفر کا بول دینا جائز قرار دیا جائے گا۔ پس ایمان کا درجہ پہلا ہے اور جان کا درجہ دوسرا ہے۔

آپ جہاد کی مشروعیت دیکھیں، ایمان ہی کی خاطر جہاد کی مشروعیت ہوئی ہے۔ جہاد میں جانیں جاتی ہیں، جانیں لی جاتی ہیں، کیوں؟ اس لئے کہ ایمان کی حفاظت مقصود ہوتی ہے۔ پس جان کا نمبر دوسرا ہے اور ایمان کا نمبر پہلا ہے۔

عقل کی حفاظت تیسرے نمبر پر ہے، کیوں؟ اس کو جاننے کے لئے یہ سمجھنا ہوگا کہ عقل سے مقصود کیا ہے؟ عقل سے مقصود یہ ہے کہ اگر آدمی کے پاس عقل نہ ہو تو وہ دنیا میں کچھ بھی کر گزر سکتا ہے۔ فتنے پھیلا سکتا ہے، کسی کا مال غصب کرسکتا ہے، لوٹ سکتا ہے، کچھ بھی کرسکتا ہے، تو اگر عقل سلامت رہتی ہے تو بہت سارے مفاسد سے بچا جاسکتا ہے اور بہت سے مصالح کا حصول ہوسکتا ہے۔

اس کے بعد نسب کا درجہ ہے۔ نسب کی حفاظت شریعت کا مقصود کیوں ہے؟ اس لئے کہ اگر نسب محفوظ نہ ہو تو جو بچہ پیدا ہوگا اس کی کفالت و پرورش کون کرے گا؟ اسے تعلیم کون دے گا؟ سچا پکا مسلمان کون بنائے گا؟ اسی لئے نسب کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے اور یہ مقصودِ شرع ہے۔

اس کے بعد درجہ ہے مال کی حفاظت کا، کیونکہ جان کی حفاظت میں من جملہ مال کی ضرورت ہے۔

گویا فقہائے کرام نے اپنی تلاش و جستجو کے بعد یہ پانچ مقاصد کو ترتیب وار متعین فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ فقہ سے مقصود ان پانچ مقاصد کا حصول ہے۔ جو شخص ان پانچ مقاصد کے حصول کے طریقے کا ادراک کرلے گا وہی فقیہ ہوگا۔ فقہ یہ نہیں ہے کہ ہم نے ’’بہار شریعت‘‘ سے ایک مسئلہ یاد کرلیا اور ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ سے ایک مسئلہ یاد کرلیا اور فقیہ و مفتی بن گئے۔

معاملہ یہ ہے کہ فقہ کا جو مقصد ہے، جب تک اس مقصد تک پہنچا نہیں جائے گا اور اس مقصد کے مطابق عمل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہم فقیہ نہیں کہلائے جاسکتے۔

فقہ، تصوف اور کلام

فقہ نام ہے مقصد شرع کے ادراک کا اور فقہ کے ساتھ عمل بھی ہو تو وہ تصوف ہے۔ اسی لئے آپ متقدمین کے یہاں دیکھیں، جیسے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے جو فقہ کی تعریف کی ہے، اس میں علم فقہ کے ساتھ علم کلام بھی داخل ہے اور علم تصوف بھی داخل ہے۔ گویا امام اعظم کے نزدیک مذکورہ تینوں علوم کے مجموعے کا نام فقہ ہے۔ فقیہ بھی اس زمانے میں وہی ہوتے تھے جو علم کلام، علم تصوف اور علم فقہ سے کماحقہ واقف ہوں اور نہ صرف واقف بلکہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی زبان میں اس پر عامل بھی ہوں۔ گویا کوئی شخص اس وقت تک فقیہ نہیں ہوسکتا تھا، جب تک کہ وہ متکلم نہ ہو، اسی طرح وہ بھی فقیہ نہیں ہوسکتا تھا جو صوفی نہ ہو، مگر چونکہ اس زمانے میں نہ وہ قوت ارادی رہی اور نہ بلند حوصلہ رہا تو جیسے دنیاوی علوم میں ترقی ہوئی اور تخصص کے دور کا آغاز ہوا، ایسے ہی ہمارے بزرگوں نے دینی علوم میں تقسیم اور درجہ بندی شروع کردی۔ فقہ کا ایک حصہ ’’علم کلام‘‘ سے موسوم کیا گیا، ایک حصہ ’’علم تصوف‘‘ کے نام سے جانا گیا، اب اس تقسیم کے بعد جو ’’فقہ‘‘ بچا وہ فرعی و عملی احکام کو ان کے دلائل کے ساتھ جاننا ہے۔

*فقہی اختلاف کے اسباب*

یقینا امت محمدیہ بلکہ انسان مختلف الطبع پیدا ہوا ہے۔ اللہ نے بنی نوع آدم کو مختلف طبائع والا بنایا ہے، اسی لئے ہماری سوچ کچھ اور آپ کی سوچ کچھ اور ہے۔ آپ کی عقل کچھ کہہ رہی ہے جبکہ ہماری عقل کچھ کہہ رہی ہے۔ جب ہمارا علم آپ کے علم سے مختلف ہے تو اختلاف ہونا ناگزیر ہے۔ اختلاف تو ہوگا اور اس اختلاف کو اللہ کے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحمت قرار دیا ہے، فرمایا:

*اختلاف امتی رحمة*

میری امت کا اختلاف رحمت ہے

(کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال، 10: 136، الرقم: 28686)

اس سلسلے میں سب سے معتبر کتاب ہمارے علماء کے لئے بھی اور ہمارے طلبہ کے لئے بھی حضرت امام شعرانی کی کتاب ’’میزان الشریعۃ الکبریٰ‘‘ ہے۔ اس کتاب کو آدمی پڑھ لے تو فکر میں بھی وسعت پیدا ہوگی اور ذہن کو بھی مضبوطی ملے گی۔ اختلاف جھگڑے کا نام نہیں بلکہ عین دین ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ اختلاف ہو، اس لئے کہ اگر اختلاف نہ ہو تو بسا اوقات دین پر عمل کرنا ناممکن ہوجائے۔ وہ اسلام جو قیامت تک ایک آفاقی اور متحرک مذہب ہے، اس کی بنیاد ہی اختلاف پر ہے۔ ائمہ مجتہدین کے زمانے سے پہلے صحابہ کرام کا اختلاف اس کی واضح دلیل ہے۔

اختلاف کن مسائل میں ہوتا ہے؟

ظاہر بات ہے کہ اختلاف اسی مسئلے میں ہوگا جو قرآن میں محکم اور مفسر نہیں، کیونکہ ظاہر میں اختلاف ہوسکتا ہے، محکم اور مفسر میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح حدیث متواتر میں اختلاف نہیں، مشہور میں اختلاف ہوسکتا ہے بلکہ سچی بات یہ ہے کہ تواتر میں بھی اس حیثیت سے اختلاف ہوسکتا ہے کہ وہ تواتر ہے کہ نہیں۔ مثلاً کسی قوم کے نزدیک کوئی بات تواتراً ثابت ہو اور دوسرے کے نزدیک تواتراً ثابت نہ ہو۔ حاصل یہ ہے کہ حدیث متواتر، محکم اور مفسر میں اختلاف نہیں ہوتا۔ ظاہر میں اور نص میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ ان سب کی مثالیں بھی آپ کے سامنے ہیں۔

اصول الشاشی میں پہلی مثال لفظ ’’قروء‘‘ کی آئی ہے۔ اس کا معنی امام اعظم کے نزدیک ’’حیض‘‘ ہے اور امام شافعی کے نزدیک ’’طہر‘‘ ہے۔ یہ سب کومعلوم ہے کہ کوئی حیض، طہر نہیں ہوسکتا اور کوئی طہر، حیض نہیں ہوسکتا، دونوں کے مابین تباین اور تضاد ہے۔ اس کے باوجود دو اماموں نے یہ دو متضاد معنی بیان کئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں، ان دو میں سے کسی کو کوئی مردود نہیں کہتا۔ اسی اختلاف کو اللہ کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحمت قرار دیا ہے۔

فقہی اختلاف رحمت ہے!

اب آپ اس اختلاف کی حکمت دیکھئے:

ایک مسئلہ ہمارے پاس آتا ہے کہ بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو پندرہ سال، اٹھارہ سال کی عمر تک یا ایک بچہ پیدا ہونے تک حیض آیا پھر اس کو کسی بیماری کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا۔ اب اگر شوہر طلاق دے دے تو اسے عدت گزارنی ہے اور وہ عورت عدت گزار کر دوسری شادی کرنا چاہتی ہے کیونکہ عدت تین حیض تھی اور حیض اس کو آہی نہیں رہے تو کیا اب وہ زندگی بھر شادی نہیں کرسکتی؟ آپ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اگر فقہی اختلاف نہ ہوتو بسا اوقات دین پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں رہ جائے گا اور دین اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جائے گا، اسی لئے میرے آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

*اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَة*

*آدابِ اختلاف*

ان ہی اختلافات کی مثال دیتے ہوئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جب کسی مسئلے میں دو صحابی کے درمیان اختلاف ہوجاتا اور وہ آپس میں مباحثے کے لئے بیٹھتے اور اپنے اپنے دلائل پیش کرتے تو دیکھنے والا دیکھتا تو سمجھتا کہ اب زندگی میں ان دونوں کے درمیان کبھی کوئی ملاپ نہیں ہوگا، زندگی میں ان دونوں کے درمیان کبھی سلام و کلام نہیں ہوگا۔ وہ اپنے اپنے دلائل پیش کرتے، ان میں کسی ایک کی بات دوسرے کو سمجھ میں آجاتی تو قبول کرلیتا، اگر سمجھ میں نہ آتی تو دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہتے لیکن مجلس سے اٹھنے کے بعد ان دونوں کا انداز یہ ہوتا تھا کہ دیکھنے والا یہ سمجھتا کہ زندگی میں ان دونوں میں کبھی اختلاف ہوا ہی نہیں۔

اختلاف کے آداب میں سے یہ ایک ضروری ادب ہے کہ جب اختلاف ہو اور بحث کے میدان میں آیا جائے تو جانبین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہیں، جب تک دوسرے کی بات ذہن قبول نہ کرلے، اس سے متفق نہ ہو، لیکن جیسے ہی اس مجلس سے اٹھے تو ایسا محسوس ہوکہ ان دونوں میں کبھی کوئی بات ہوئی ہی نہیں ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کا احترام پہلے کی طرح کریں۔ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے اختلافات اور طریقہ اختلاف سے سبق لینا چاہئے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے بعد تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کو لیجئے، خود ائمہ مجتہدین کو دیکھئے، فقہ کی کوئی کتاب نہیں ملے گی جس میں ایک دوسرے کا رد نہ کیا جارہا ہو اور خاص کر ’ہدایہ‘ تو اسی لئے ہی لکھی گئی ہے تاکہ امام شافعی کی دلیل کو رد کیا جائے، امام مالک کی دلیل کو ناقص قرار دیا جائے، حنابلہ کی دلیل میں کمزوری دکھا کر احناف کی دلیل کو ثابت کیا جائے۔ مخالف کی دلیل کو کمزور قرار دے کر اپنے امام کی دلیل کو مضبوط قرار دینے کے ہی مقصد سے یہ کتابیں لکھی گئیں اوریہ مقصد ان کا غلط نہیں تھا۔ ان کا مقصود یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ غیر مقلدیت وجود میں آجائے، اس لئے جو جس امام کی پیروی کررہا ہے، اس امام کی دلیل اس کو سب سے زیادہ مضبوط معلوم ہو تاکہ وہ اسی پر قائم رہے۔ لیکن مقلد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی بھی حال میں وہ اپنے امام کا مسلک نہ چھوڑے۔

تبدیلی فتویٰ کی ایک مثال

فتاویٰ رضویہ کتاب الحج میں ہے کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے سامنے یہ مسئلہ آیا کہ اس زمانے میں جو قافلے مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ چلتے تھے، ان کا امیر حنبلی یا شافعی ہوتا تھا۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حالت سفر میں عصر کی نماز، ظہر کے وقت میں اور مغرب کی نماز، عشاء کے وقت میں پڑھی جاسکتی ہے۔ یہ ادا ہی کہلائے گی، قضا نہیں کہلائے گی۔ احناف کے نزدیک عصر کی نماز، ظہر کے وقت میں نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ سبب یعنی وقت نہیں پایا گیا۔ پس اگر سبب نہیں ہے تو مسبب یعنی نماز کا وجود کہاں سے ہوگا؟ اور مغرب کی نماز دانستہ طور پر قضا کردینا ناجائز و حرام ہے اور عشاء کے وقت میں ادا کی گئی مغرب کی نماز قضا کہلائے گی اور بغیر عذر کے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔

قافلہ، امام شافعی کے مذہب کے مطابق ظہر کی نماز کے وقت عصر ادا کرکے روانہ ہوجاتا تھا۔ احناف اپنے مذہب کے مطابق ظہر ہی کے وقت عصر کی نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ پورا قافلہ پچاس افراد پر مشتمل ہوتا تھا۔ ان میں احناف کسی قافلے میں پانچ، کسی قافلے میں دس اور کسی قافلے میں پندرہ ہوتے تھے۔ گویا قافلے میں غلبہ انہی لوگوں کا ہوتا تھا۔ قافلہ اپنے معمول کے مطابق چلتا رہتا، کہیں رکتا نہیں۔ قافلہ جب بھی رکتا، اپنے منزل پر ہی رکتا۔ چاہے عصر کا وقت ہوجائے یا مغرب کا وقت ہوجائے۔ ظہر کے وقت ہی میں عصر ادا کرکے روانہ ہوتے اور مغرب کی نماز اپنے وقت پر ادا نہیں کرتے بلکہ عشاء کے وقت منزل تک پہنچ کر مغرب و عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کرتے۔ اس صورت میں وہاں احناف کیا کریں؟

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس قافلہ میں موجود احناف عصر کی نماز، ظہر کے وقت ہی میں ادا کرلیں اور مغرب کی نماز، عشاء کے وقت میں ادا کریں۔ اب آپ دیکھئے کہ اعلیٰ حضرت ایک طرف تو یہ لکھتے ہیں کہ جب تک وقت نہ ہو نماز ہوگی ہی نہیں اور دوسری طرف یہ فرمارہے ہیں کہ شافعی کی طرح حنفی بھی عصر کی نماز، ظہر کے وقت ہی میں ادا کرلیں۔

معاملہ کیا تھا؟ یہ بات آپ پر اس وقت واضح ہوگی جب آپ یہ سمجھیں کہ فقہ مقصدِ شرع کے ادراک کا نام ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقام پر مقاصدِ شرع کو سامنے رکھ کر حکم سنایا ہے۔ نماز سے شریعت کا مقصد اللہ کی عبادت ہے۔ وقت اصل مقصود نہیں ہے، اصل مقصود ہے اللہ کی عبادت اور اللہ کی بندگی۔ اللہ کی بندگی جو اصل مقصود ہے، اگر ہم عصر کے وقت نہیں کرسکتے تو ظہر کے وقت ہی کرلیں گے۔ مغرب کی نماز اس کے وقت میں ادا نہیں کرسکتے تو عشاء کے وقت میں ہی ادا کرلیں گے۔ اگر قافلہ چھوڑ کر کوئی نماز ادا کرنے لگے تو جان چلی جائے گی، بعض حالات میں مال چلا جائے گا، اسی لئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا فتویٰ دیا۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں اس فتویٰ کے ذریعے ہمارے سامنے یہ واضح فرمادیا کہ مفتی کے لئے مقصدِ شرع کا ادراک بہت ضروری ہے لیکن ہمارے مفتیان کرام اس طرح کے فتوے پڑھتے ہیں اور پھر بغیر سوچے سمجھے نقل کرتے چلے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ حکم مکہ اور مدینہ والوں کے لئے خاص ہے، جیسے عرفہ اور مزدلفہ کے لئے حکم خاص ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے، اس لئے کہ عرفہ اور مزدلفہ کے حکم کی تخصیص اللہ کے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی لیکن جب تک اللہ کے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ اور مدینے میں رہے تو مدینہ اور مکہ والوں کے لئے یہ تخفیف و تخصیص نہیں فرمائی۔ صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی کے فتاویٰ ’’فتاویٰ امجدیہ‘‘ میں ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ حضرت یہ حکم مکہ و مدینہ والوں کے لئے خاص ہے یا آج بھی ایسا ہوسکتا ہے اور کہیں بھی ہوسکتا ہے؟ صدر الشریعہ فرماتے ہیں: وہی حالات ہوں تو کہیں بھی اور آج بھی ہوسکتا ہے۔

حق کو تسلیم کرنا چاہئے

آپ کے ذہن میں ایک سوال ہوگا کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ حق آنے کے بات بھی ہم میں سے بعض افراد قبول حق کے بجائے حق سے فرار کی راہ ڈھونڈتے ہیں؟ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ دانستہ ہم کوئی مسئلہ بتاچکے ہوتے ہیں، کوئی رائے قائم کرچکے ہوتے ہیں، اب اس کو نبھانے کے لئے، اس کو سچ ثابت کرنے کے لئے جھوٹی سچی تعبیر میں الجھ جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر اتفاقاً ہماری زبان سے کوئی بات نکل گئی اور وہ واقعہ کے مطابق نہیں ہے، شریعت کے مطابق نہیں ہے تو ہمیں تسلیم کرلینے میں عار کیوں محسوس ہوتا ہے؟ ہم جو تسلیم کررہے ہیں، وہ ہماری اپنی بات نہیں ہے، وہ تو اللہ و رسول کی بات ہے۔ مثلاً آپ سے ہمیں کوئی اختلاف ہوا، آپ کی بات مضبوط دلیل سے ثابت ہوگئی، اب اگر ہم اس کو تسلیم نہ کریں تو ہم آپ کی بات سے انکار نہیں کررہے ہیں بلکہ ہم تو شریعت کی بات کا انکار کررہے ہیں اور اگر ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں تو گویا شریعت ہی کی بات مانتے ہیں اور شریعت کے سامنے سر جھکانا ہی چاہئے اور ہمیں ہمہ وقت شریعت کا پابند ہونا چاہئے۔ یہ ہمارے ایمان کی علامت ہے۔ ہمارے لئے راہ نجات اور باعث سعادت ہے کہ شریعت کے سامنے اپنا سر جھکائے رکھیں۔

تقلیدِ امام اور احترامِ ائمہ

یہ ایک مستقل بحث ہے کہ ہم پر تقلید کیوں واجب ہے؟ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ تقلید ہم پر واجب ہے۔ ہم امام اعظم کے مسلک کو اپنے حق میں اپنانا واجب سمجھتے ہیں مگر اس کے معنی یہ نہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اگر عدت کے لئے ’طہر‘ کو شمار کرنے کے لئے کہا ہے اور امام اعظم نے ’’حیض‘‘ کو عدت قرار دیا ہے تو ہم اپنے مذہب کو حق سمجھیں اور طہر کو عدت قرار دینا باطل سمجھیں۔ ایسا نہیں ہے، وہ باطل نہیں ہے، اگر باطل ہوتا تو رحمت کیسے ہوتا؟ وہ بھی حق پر ہیں، ہم بھی حق پر ہیں۔ مگر ہمارے لئے یہ حق ہے، ان کے لئے وہ حق ہے۔

ہاں، ایک ہی شخص کے حق میں ایک چیز جائز بھی ہو اور ناجائز بھی ہو، یہ نہیں ہوسکتا۔ حنفی کے حق میں ایک چیز جائز ہے اور وہی چیز شافعی کے حق میں فرض ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ شخص مذہب امام اعظم کو ہی صحیح قرار دے رہا ہے اور امام شافعی کو غلط کہہ رہا ہے۔ ہاں! جہاں ضرورت پڑ جائے اور مقصود شرع کے مطابق مذہب شافعی ہی موافق ہو تو وہاں امام اعظم کے مسلک کے بجائے امام شافعی ہی کے مسلک کے مطابق فتویٰ دینا صحیح اور جائز ہوگا جیسا کہ وہاں عصر کی نماز یہ کہہ کر ترک کردینا کہ امام اعظم کے مسلک کے مطابق عصر کی نماز ہوگی ہی نہیں، کیونکہ وقت جو سبب ہے وہ پایا ہی نہیں گیا، لہذا ہم عصر کی نماز ادا نہیں کریں گے، یہ حماقت ہے۔ اس وقت امام شافعی کے مسلک پر عمل کرلینا ہی مقصدِ شریعت کا ادراک ہے۔ اسی لئے اعلیٰ حضرت فافضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کا حکم دیا ہے جو اپنے زمانے کے بہت بڑے فقیہ تھے۔

*اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے خلفاء کا اختلاف*

اختلافات کے حدود و آداب اجمالاً آپ کے سامنے آگئے۔ اب آیئے میں بہت نیچے آجائوں، وہاں آجائوں جہاں کسی کے لئے مجال دم زن نہ ہو۔ حضرت صدرالشریعہ رحمۃ اللہ علیہ مصنف ’’بہار شریعت‘‘ کے پیر و مرشد اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں اور وہ ان کے خلیفہ بھی ہیں۔ اسی طرح حضرت صدرالافاضل رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا برہان الحق جبل پوری بھی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے، مذکورہ تینوں حضرات کی ایک ایک مثال آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

1۔ عورتوں کی زیارتِ قبور کا مسئلہ

حدیث پاک کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا اس سلسلے میں فقہائے متقدمین کے درمیان اختلافات ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کو مطلق رکھا ہے۔ مردوں اور عورتوں کے لئے اجازت ہے۔ بعض لوگوں نے فرمایا: نہیں، صرف مردوں کے لئے اجازت ہے، عورتوں کے لئے اجازت نہیں۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا موقف یہ ہے کہ عورتوں کا مزاروں پر جانا حرام ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا مسلک اس طرح ظاہر کیا ہے: حرام، حرام حرام، یہ نہ پوچھ کہ جانے میں کیا ثواب ہے، یہ پوچھ کہ جب وہ مزار کی زیارت کے ارادے سے گھر سے قدم نکالتی ہے تو اسی وقت سے اللہ اور اس کے رسول اور اس کے فرشتے کی لعنت شروع ہوتی ہے، جب تک کہ واپس پھر اپنے گھر میں قدم نہ رکھے۔

حضرت برہان ملت مولانا برہان الحق جبل پوری نے ایک بہت مفصل فتویٰ رسالے کی شکل میں لکھا کہ ’’عورتوں کا مزاروں پر جانا جائز ہے‘‘ اور اس رسالے کو اصلاح کے لئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کیا۔ میں نے وہ رسالہ تو نہیں دیکھا لیکن اعلیٰ حضرت کی تحریر دیکھی جس میں اس کا تذکرہ ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ برہان میاں نے عورتوں کے مزارات پر جانے کے تعلق سے جو اپنا رسالہ لکھا اور مجھے اصلاح کے لئے بھیجا، ایک مدت تک تو موقع مل ہی نہیں سکا کہ دیکھتا، بعد میں دیکھا، جہاں استدلال میں کوئی کمی تھی، اس کی تصحیح کردی۔

عورتوں کے مزارات پر جانے کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جو خود حرام لکھتے اور سمجھتے ہیں، اس کے خلاف لکھنے والے کی اصلاح و تصحیح فرمائی اور اضافہ و تکمیل اور تصدیق بھی فرمائی، مگر اس کے بعد اپنا مسلک ظاہر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مگر بحال زمانہ میں اسے ناجائز و حرام سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فی نفسہ جائز تھا۔ مگر اس زمانہ میں مقصد شرع کے خلاف ہورہا تھا، اس لئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ناجائز قرار دیا لیکن چونکہ فی نفسہ جائز تھا، اسی لئے ڈانٹنے اور توبہ کرانے کے بجائے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اس رسالہ کی تکمیل فرمائی۔ حالانکہ مولانا برہان الحق، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و شاگرد تھے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ چاہتے تو انہیں ڈانٹ سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

2۔ قنوت نازلہ کب پڑھی جائے؟

حضرت صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے کتنی عقیدت تھی، اس کو میں نے خود مفتی اعظم مولانا مصطفی رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے سنا اور کچھ لوگوں نے لکھا بھی ہے کہ انہوں نے جب فتاویٰ رضویہ (جلد اول) کا مطالعہ کیا تو بریلی آئے اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ حضور! میں ایک طرف ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ دیکھ رہا ہوں اور ایک طرف ’’شامی‘‘، تو ایسا لگتا ہے کہ ’’شامی‘‘ کسی طفل مکتب کی لکھی ہوئی ہے اور فتاویٰ رضویہ ایک حکیم عالم کی لکھی ہوئی ہے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مولانا! ایسا نہیں ہے۔ اس فقیر نے بائیس مرتبہ ’’شامی‘‘ کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے تب آج یہ حال ہے۔

اس طرح کی بات اگر آج کسی کے بارے میں کہہ دی جائے تو سننے والے بہت خوش ہوں گے کہ اس نے ’’شامی‘‘ سے مجھ کو بڑھادیا۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی حادثہ فاجعہ ہو تو فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی جائے گی۔ جب کہ یہ امام شافعی کا مسلک ہے۔ ہمارے یہاں ہمیشہ کے لئے نہیں ہے، صرف حادثہ فاجعہ ہو تو صحیح اور جائز ہے لیکن کب پڑھی جائے؟ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: رکوع سے پہلے جیسے وتر میں پڑھی جاتی ہے، ویسے ہی پڑھی جائے گی۔ مگر صدرالافاضل رحمۃ اللہ علیہ نے رکوع کے بعد پڑھنے کا فتویٰ دیا ہے۔ اب بتایئے کس کو آپ برا کہیں گے؟ کس سے توبہ کا مطالبہ کریں گے؟ اعلیٰ حضرت سے یا صدرالافاضل سے؟ جیسے آداب یہاں ملحوظ رکھے جائیں گے، وہی آداب آئندہ بھی اور آج بھی ملحوظ رہنا چاہئے۔

3۔ دعائے قنوت کی جگہ سورہ فاتحہ

صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کے مطالعے سے دو مسئلے ایسے نکلے جہاں صدرالشریعہ نے اعلیٰ حضرت سے اختلاف کیا۔ ایک مسئلے میں اختلاف تو بڑا دلچسپ ہے۔ اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا کہ کسی کو دعا قنوت یاد نہ ہو اور وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے، اس کی جگہ اس نے کوئی اور دعا نہیں پڑھی، سورہ فاتحہ پڑھ لی تو واجب ادا ہوا یا نہیں؟ اگر واجب ادا ہوگیا تو نماز ہوگئی اور اگر نہیں ہوا تو نماز لوٹانی چاہئے۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ واجب ادا ہوگیا، نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ فتاویٰ امجدیہ میں اس مسئلے کے بارے میں صدرالشریعہ سے سوال ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ واجب ادا نہیں ہوا، نماز لوٹانی ہوگی۔ مگر ہمارے علما نہ تو صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو برا بھلا کہتے ہیں اور نہ ہی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو برا بھلا کہتے ہیں۔

4۔ نماز چاشت کے لئے تیمم؟

جب حضرت صدرالشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے بہار شریعت لکھی تو اس کے ابتدائی حصے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میںپیش کئے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی اصلاح فرمائی اور بہار شریعت لکھنے پر صدرالشریعہ کو دعائیں دیں اور القاب سے نوازا۔ صدرالشریعہ کے بقول جہاں کہیں بھی صدرالشریعہ سے مفتیٰ بہ قول نقل کرنے میں چوک ہوئی، وہاں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اسے قلم زد فرمایا اور جو مفتیٰ بہ قول تھا اس کی طرف رہنمائی فرمائی۔

اسی بہار شریعت میں چاشت کی نماز، چاند گرہن کی نماز یا اس طرح کی دوسری نمازوں کے بارے میں مذکور ہے کہ اگر کسی کو یہ لگے کہ وہ جب تک وضو بنائے گا تب تک ان کا وقت ختم ہوجائے گا اور مکروہ وقت شروع ہوجائے گا، ایسے شخص کو چاہئے کہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے، کیونکہ چاشت کی نماز، سورج گرہن کی نماز اور چاند گرہن کی نماز فوت ہوجائے گی۔ اس لئے اس کے حق میں یہ تیمم کے لئے عذر ہے، اسے چاہئے کہ تیمم کرکے ان نمازوںکو ادا کرلے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے بہار شریعت (تیسرا حصہ) ملاحظہ فرمایا اور صدرالشریعہ کی تعریف و توصیف کرکے اس پر تقریظ بھی لکھی لیکن وہ خود فتاویٰ رضویہ میں اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ ان نمازوں کے لئے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ خود تو ناجائز لکھ رہے ہیں، صدر الشریعہ کے جائز کہنے پر ان کی تصدیق بھی فرمارہے ہیں۔ اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ کیونکہ اعلیٰ حضرت جانتے تھے کہ یہ فقہی فروعی مسئلہ ہے، اس میں جواز کی بھی گنجائش ہے اور عدم جواز کی بھی گنجائش ہے۔ ہمارے نزدیک قرائن کے اعتبار سے عدم جواز کو ترجیح حاصل ہورہی ہے، اسی لئے ہم نے عدم جواز کا حکم دیا ہے۔ صدر الشریعہ کا موقف بھی صحیح ہے کیونکہ ان کے نزدیک قرائن کی روشنی میں جواز کا پہلو راجح ہے۔

*آج فقہی اختلاف پر ناراضگی کیوں؟*

میرے بھائی! اگر صدرالشریعہ اعلیٰ حضرت سے اختلاف کریں تو جائز ہے، کیونکہ مسئلہ فروعی ہے، جس میں اختلاف جائز ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے کسی کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا، کسی کو جاہل نہیں کہا جائے گا، کسی کو گمراہ نہیں کہا جائے گا تو آج اگر کوئی آپ سے اختلاف کرے تو آپ اس کے پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں کہ توبہ کرو؟ تمہاری اقتدا میں نماز نہیں ہوگی، ایسا نہیں، ویسا نہیں۔ کیا فروعی مسائل میں اختلاف کا دروازہ بند ہوگیا ہے؟ یہ نبوت تو نہیں ہے کہ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا ہے۔ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے، ہاں! واقعہ یہ ہے کہ اجتہاد کی جو شرائط ہیں، وہ شرائط نہیں پائی جارہی ہیں، اسی لئے کوئی مجتہد مطلق نہیں ہوپارہا ہے۔ یہ نہیں کہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہونا تو شرعاً ممکن ہے، میرے بھائی! جب اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے تو تحقیق کا دروازہ کیوں بند کردیتے ہو؟

معلوم ہوا کہ فقہی فروعی مسائل میں اختلاف کی آزادی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا تھا جب تک میری بات تمہاری سمجھ میں نہ آجائے اور جب تک تمہیں ان کی دلیل معلوم نہ ہوجائے، دل مطمئن نہ ہوجائے اس وقت تک میرے فتوے پر نہیں بلکہ اپنے اجتہاد پر عمل کرو۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ جانیں کہ شریعت کا کسی مسئلے میں مقصد کیا ہے؟ جب تک مقصد نہیں جانیں گے، اس وقت تک اختلاف کی حقیقت واضح نہیں ہوگی اور اس وقت تک اختلاف کرنا روا بھی نہیں ہوگا۔ اختلاف روا جب ہی ہوگا جب مقصد آپ کے سامنے ہو کہ شریعت ہم سے کیا چاہ رہی ہے اور ہمارے اختلاف سے اس مقصد کی تکمیل ہورہی ہے یا مقصد کی تکمیل نہیں ہورہی ہے؟ تکمیل ہورہی ہے تو اختلاف رحمت ہے اور اگر تکمیل نہیں ہورہی ہے تو اختلاف ناروا ہے۔ جو ہم رتبہ نہیں ہیں، ان کے لئے اپنے سے بڑے رتبہ والے کی اتباع لازم ہے، لیکن جو ہم رتبہ ہیں، ان کا آپس میں اختلاف کرنا جائز ہے، اختلاف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر یہ اختلاف اس طرح ہونا چاہئے جس کا ذکر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے نقل فرمایا کہ جب دو صحابہ بحث کرتے تھے تو لگتا تھا کہ دونوں جانی دشمن ہیں، کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملیں گے لیکن جب ملتے تھے تو لگتا تھا کہ کبھی ان دونوں میں کوئی اختلاف ہوا ہی نہیں ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان ہی بزرگان دین کی روش پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

keyboard_arrow_up