آئیں اس رمضان کو یادگار رمضان بنائیں

ہمیں چاہیے کہ اس مقدس مہینے کو عظیم الشان طریقے سے گزاریں اور اس رمضان المبارک کو یادگار رمضان المبارک بنانے کیلئے اس ماہ مبارک کو فضولیات اور غفلت میں گزارنے کی بجائے اخلاص کے ساتھ نیکیوں میں گزاریں اور نیک اعمال بجا لائیں اور اس رمضان المبارک کو اپنی بخشش کا ذریعہ بنائیں اللہ تبارک و تعالی ہمیں رمضان المبارک میں مکمل روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حضور خاتم النبیین ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ: ” روزہ عبادت کا دروازہ ہے۔ ” (جامع ترمذی )

ایک اور حدیث پاک میں فرمایا کہ

“جنت کے اٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک کا نام ریّان ہے روزے دار اس دروازے سےداخل ہونگے۔” (بخاری)

ایک اور حدیث پاک میں فرمایا کہ

“ہر چیز کے لیے زکوۃ ہے اور بدن کی زکوۃ روزہ ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔” (ابن ماجہ)

 سحری کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ “سحری کھاؤ سحری کھانے میں برکت ہے ۔” (بخاری)

افطار کے متعلق حضور اکرم ﷺ نے فرمایا  “جس نے روزے دار کو افطار کرائی تو اس کے لیے اس کی مثل اجر ہے اور روزے دار کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ کی جائے گی ۔” (ترمذی شریف)

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ “جو رمضان المبارک میں ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔”

 حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں کے تراویح کی پابندی کی برکت سے تمام صغیرہ گناہ معاف ہو جائیں گے ۔(مرات المناجیح)

تراویح سنت موکدہ ہے اور اس میں کم از کم ایک بار ختم قران بھی سنت موکدہ ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” جس نے لیلۃ القدر میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے” ( بخاری شریف)

رمضان المبارک میں چار کاموں کی کثرت کا حکم 

، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں چار کاموں کی بطور خاص تلقین کی ہے

کلمہ طیبہ کی کثرت

  استغفار کی کثرت

 جنت کو طلب کرو

 جہنم سے پناہ مانگو

اس ماہ مبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل نے اس میں قران پاک نازل فرمایا اللہ تبارک و تعالی نے اپنے کلام میں ارشاد فرمایا

شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْ‌آنُ     (سورۃ البقرۃ)

ترجمہ: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔

مفسرین کرام سورۃ القدر کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قران کریم کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ماہ رمضان میں نازل فرمایا اور پھر تقریبا 23 برس کی مدت میں اپنے پیارے حبیب ﷺ پر اسے بتدریج نازل فرمایا (تفسیر صاوی)

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا

 “بے شک اللہ تعالی نے میری امت کو شب قدر عطا فرمائی اور یہ رات پہلے امت کو عطا نہیں کی گئی۔”

امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ “حضور اکرم ﷺ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے” ( ابن ماجہ)

 امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا “جس نے رمضان المبارک میں 10 دنوں کا اعتکاف کیا تو وہ گویا ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کیئے۔”

جب ماہ رمضان جدا ہوتا ہے تو غفلت میں گزارے ہوئے دنوں کا بے حد افسوس ہوتا ہے اور اپنی عبادتوں کی سستیاں یاد آتی ہیں دل پر ایک خوف چھا جاتا ہے کہ ہائے یہ رمضان بھی غفلت میں گزار دیا ،کبھی خوف خدا کا غلبہ ہوتا ہے تو دل غم میں ڈوب جاتا ہے چہرے پر اداسی چھا جاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس رمضان المبارک کو ہم سب کے لیے یادگار رمضان اور  بخشش کا رمضان بنائے (امین یا رب العالمین)

محمد حمزہ قادری

متعلم درجہ خامسہ

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی

Related

keyboard_arrow_up