تحریکِ تحفظِ عقیدۂ ختمِ نبوت 1953/1974کامختصر جائزہ

7؍ستمبر1974ء کوسابق وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں یعنی قادیانیوں کو ہماری قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک عالمی سازش کے تحت قادیانیوں کو اہم عہدوں پرتعینات کیاگیا۔جس کا فائدہ اٹھاکر وقتًافوقتًا مسلمانانِ پاکستان کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جاتا رہا جس کے خلاف  سن1953ء میں تمام مکاتبِ فکرکی جانب سے  تحریکِ تحفظِ عقیدۂ ختمِ نبوّت چلائی گئی جس کی قیادت حضرت علامہ ابوالحسنات سید محمداحمد قادری فرمارہے تھے  جن کا مطالبہ تھا کہ وزیر خارجہ ظفراللہ مرزائی کو وزارتِ خارجہ کے عہدے سے ہٹایا جائے اس تحریک کو بزورِ طاقت دبایا گیا ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا سینکڑوں علماء کو گرفتار ۔کر کے پابندِسلاسل کیا گیا علامہ ابوالحسنات صاحب سمیت مرکزی قائدین کو گرفتار کر کے سکھر جیل میں نظر بند کر دیا گیا جہاں علامہ ابو الحسنات صاحب کو اطلاع ملی کہ آپ کے ایک اکلوتے بیٹے مولانا خلیل احمد قادری کو تحریک میں حصہ لینے پر سزائے موت سنائی گئی ہے آپ کے جیل کے ساتھی علماء نے بچشمِ حیرت یہ منظر دیکھا کہ علامہ صاحب نے تمام تر صبر و سکون کے ساتھ یہ خبر سنی اور فرمایا الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے یہ معمولی ہدیہ قبول فرما لیا جب مرکزی قائدین کوگرفتار کرلیاگیا تو مجاہدِ ملت مولانا عبدالستار خان نیازی نے مسجد وزیر خان سے تحریک کو آگے بڑھایا اس دوران ایک ڈی ایس پیقتل کر دیا گیا جس کے قتل کے الزام میں مولانا عبدالستار خان نیازی صاحب کو گرفتار کر لیا ۔گیا،علامہ نیازی سمیت کئی علما وقائدین کو پھانسی کی سزائیں سنائی گئیں مگر بعد میں اس فیصلے پر عملدر آمد نہ ہوا۔

اللہ کے فضل و کرم سے آپ کوباعزت رہا کیاگیا نیز مولانا خلیل احمد قادری کی سزائے موت کی خبر بھی غلط ثابت ہوئی اس تحریک میں علامہ سید احمد سعیدشاہ کاظمی ،علامہ عبدالحامد بدایونی، علامہ عبدالغفور ہزاروی،مفتی محمد حسین نعیمی،پیر محمد قاسم مشوری، مفتی محمد حسین قادری سمیت کئی پیرانِ عظام نے شرکت کی ، محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد قادری نے اپنے اسٹیج سے بھرپور انداز میں مسئلہ ختم نبوت کو اجاگر فرمایا اور مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کو طشت ازبام فرمایا اس موقع پر محدث اعظم پاکستان نے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس کا نام تھا مرزا مرد ہے یا عورت؟یہ تحریک عارضی طور پر مارشل لاء کے ذریعے دبا دی گئی مگر قادیانیوں کی سازشیں مسلسل جاری رہیں۔

 سن 1974ء میں ملتان کے نشتر کالج کے کچھ طلبہ نے پشاور جاتے ہوئے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر تاجدار ِختم نبوت کا نعرہ لگایا جس پر قادیانی آگ بگولا ہوئے اور پشاور سے واپسی پر ربوہ ریلوےاسٹیشن پر ان طلباء پر  بے انتہا تشدد کیا گیا جس سے ایک مرتبہ پھر یہ تحریک اٹھی،جس کا نام تحریکِ ختم نبوت ﷺ 1974ء ہے حسبِ سابق اس تحریک میں بھی تمام مکاتبِ فکر کے علماء شامل تھے مجلس عمل کے سیکرٹری شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی تھے قومی اسمبلی میں تحریک کے روح رواں قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی تھے ۔

 مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے قومی اسمبلی  (پاکستان) میں 30؍ جون 1974ء کو احمدیوں اور لاہوری گروپ کے خلاف ایک قرارداد پیش کی کہ یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں جبکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں لہٰذا اس باطل عقیدے کی بنا پر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

مجاہد ختم نبوت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ان کا نام قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے میں  رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، اس تحریک میں علما کے علاوہ دیگر بہت سے سیاستدانوں (جیسے کہ نواب زادہ نصر اللہ خان وغیرہ) نے بھی بھرپور کردار ادا کیا، اس قرارداد کی حمایت میں 22 ارکان اسمبلی نے دستخط کیے بعد میں ان کی تعداد 37 ہو گئی ان میں علامہ عبدالمصطفی الازہری کراچی ،سید محمد علی حیدرآباد، مولانا ذاکر جنگ بھی شامل تھے البتہ دیوبند مکتبہ فکر کے مولوی غلام غوث ہزاروی اور مولوی عبدالحکیم نے مفتی محمود کے اصرار کے باوجود اس قرارداد پر دستخط نہیں کیے ۔

 دو ماہ اس پر بحث ہوتی رہی پوری قومی اسمبلی کے ارکان کو خصوصی کمیٹی کا درجہ دیا گیا۔  کمیٹی کے 26 ویں اجلاس میں طے پایا کہ جرح صرف  اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار کریں گے، بہت سے سیاست دان اس تحریک سے قبل اس مسئلے کی سنگینی سے ناواقف تھے، لیکن جب انھیں (مرزا ناصر وغیرہ) کے قول و اقرار سے اصل صورت حال کا علم ہوا تو وہ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے سلسلے میں سنجیدہ ہو گئے بالآخر 7ستمبر 1974ءکو  اللہ تبارک و تعالی نے اہلِ ایمان کو عظیم الشان فتح عطا فرمائی ہماری قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں ۔کو غیر مسلم قرار دیا۔اس وجہ سے پاکستان کے مسلمان غیر سرکاری طور پر 7 ستمبر کو یوم تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے طور پر مناتے ہیں۔

اس قانون کے پاس ہوتے ہی احمدیوں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اس قانونی ترمیم کو چیلنج کیا مسلمانوں کی طرف سے ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی اور احمدیوں کی طرف سے فخرالدین جی ابراہیم نے اس کیس کی پیروی کی لیکن مرزا غلام احمد کی تصانیف میں لکھی ہوئی اسلام مخالف کفریات، دلائل قاطعہ ثابت ہوئیں اور قادیانی کورٹس میں بھی خود کو مسلمان ثابت نہ کر سکے اور وہ وہاں سے بھی کافر و مرتد قرار پائے۔

محمد حمزہ قادری

متعلم درجہ رابعہ

حبیبیہ اسلامک اکیڈمی

Related

keyboard_arrow_up