نہ چاہتے ہوئے بھی وہ لکھنا پڑ رہا ہے، جو دل اور قلم پر بھاری ہے ۔
حجازِ مقدّس کا سفر۔۔۔ ایک اعزاز سے کم نہیں ہے ۔
جب یہ بلاوا آتا ہے تو دل کی زمین نم ہونے لگتی ہےآنکھوں کے چشمے بے اختیار بہہ پڑتے ہیں،اور ہچکیوں کی لرزتی گونج اُس شوق و محبت کی شدت کو عیاں کر دیتی ہےجو لفظوں کی قید میں نہیں آ سکتی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں سانس بھی آہستہ لینا ادب کا تقاضا ہے۔
اے زائرِ حرم!
یاد رکھ، یہ سرزمین تفریح کا میدان نہیں،یہ عشق و ادب کا مقام ہے۔
یہاں حاضری نہیں، تسلیم و تعظیم کا امتحان ہوتا ہے۔
قرآن خبردار کر چکا ہے —
“اَن تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ”
کہ بے ادبی سے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں —
چاہے نماز ہو، روزہ ہو، حج ہو یا عمرہ۔
پس یہاں زبان بھی ضبط مانگتی ہے، نگاہ بھی ادب مانگتی ہے۔
یہاں شوخی نہیں، خاموشی عبادت ہے۔
یہاں ہنسی نہیں، آنسو زینت ہیں۔
افسوس کہ کچھ دل غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں —
مقدس مقام پر بھی کھیل تماشے بناتے ہیں،
تصویریں اور ویڈیوز میں ادب کی چادر نوچ ڈالتے ہیں۔
افسوس!
اسی پاک مقام پر کچھ دل دنیا کی مستیوں میں کھو جاتے ہیں۔
کوئی بیوی شوہر کے شانوں پر سر رکھ کر تصویریں بنواتی ہے،کہیں شوہر بیوی کو بانہوں میں لیے کھڑا ہے،اور نئے جوڑے انگلیوں سے دلوں کے نشان بنا کر
اس مقدس فضا میں محبت نہیں، غفلت کے عکس پھیلا رہے ہیں۔
یہ وہ حرکات ہیں جن سے روح زخمی ہوتی ہے،ادب کا نور مدھم پڑتا ہے،اور تعظیم کے چراغ بجھنے لگتے ہیں۔
اے حرم کے مہمان!
یہاں ہر لمس میں طہارت چاہیے،
ہر لفظ میں ادب،
ہر تصویر میں ضبط۔
ایسی حرکتیں چند لوگوں سے شروع ہوتی ہیں،
مگر جب برائی کو برائی نہ سمجھا جائےتو یہ contagion بن کر دلوں سے حیا چھین لیتی ہے۔
اے حرم کے مہمان!
تجھے یہاں آنسوؤں میں بھی ادب رکھنا ہے،
ہنسی میں بھی حدود یاد رکھنی ہے،
اور رشتوں میں بھی تعظیم کا لباس نہیں اتارنا۔
یہاں ہر سانس، ہر لمحہ، ہر ادا صرف ایک صدا کے تابع ہے —
“اَدَب! اَدَب! اَدَب!”
یہ زمین پکنک پوائنٹ نہیں،یہ دل کے جُھکنے، روح کے رونے،اور بندگی کے کامل ہونے کا مقام ہے۔

