فصاحتِ قرآن پر اعتراض اور اس کا جواب

اعتراض

قرآن کریم میں انبیاء کرام کے قصے بار بار بیان کیے گئے ہیں۔ بعض کے بقول حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر 120 جگہ آیا ہے۔ اور ابن عربی کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ 25 آیات میں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ 90 آیات میں ذکر ہوا ہے۔ یہ بات خلافِ فصاحت ہے۔

جواب

وہ تکرار خلافِ فصاحت ہوتی ہے جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ لیکن قصصِ قرآنی کی تکرار بے شمار فوائد پر مشتمل ہے۔ علامہ بدر بن جماعہ نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے: المقتنص فی فوائد تکرار القصص، جس میں کئی حکمتیں بیان کی ہیں:

تکرارِ قصص کے فوائد

  1. زیادتیِ معنی

ہر جگہ کچھ نہ کچھ اضافہ ہوتا ہے یا کسی نکتے کے لیے مختلف الفاظ لائے جاتے ہیں، اور یہ بلغاء کا خاصہ ہے۔

  1. مختلف جماعتوں تک رسائی

ایک جماعت ایک قصہ سن کر رخصت ہو جاتی، پھر دوسری جماعت آتی۔ اگر تکرار نہ ہوتی تو ایک قوم صرف حضرت موسیٰ کا قصہ سنتی اور دوسری حضرت عیسیٰ کا۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ سب قومیں سب قصے سنیں۔

  1. مختلف اسالیب میں اعجاز

ایک ہی مضمون کو مختلف اسالیب میں بیان کرنے میں فصاحت کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔

  1. احکام کے مقابلے میں قصص کی نوعیت

احکام کی تکرار کم ہے لیکن قصص کی تکرار زیادہ ہے، تاکہ نصیحت اور عبرت بار بار سامنے آئے۔

  1. اعجازِ قرآن کی وضاحت

جب ایک ہی قصہ کئی جگہ مختلف انداز سے آیا اور کفار پھر بھی اس کی مثل نہ لا سکے تو ان کا عجز اور نمایاں ہو گیا۔

  1. اہلِ عرب کی حجت ختم کرنا

اگر ایک قصہ صرف ایک ہی جگہ آتا تو اہلِ عرب کہتے کہ تم بھی اسی جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ لہٰذا مختلف سورتوں میں تکرار کے ذریعے ان کی حجت ختم کر دی گئی۔

  1. دلچسپی اور کشش

جب ایک ہی قصہ مختلف انداز میں بار بار ذکر کیا گیا تو سننے والے اکتاہٹ کے بجائے نئی لذت پاتے ہیں۔ یہی کلامِ الٰہی کا خاصہ ہے کہ باوجود تکرار کے نہ لفظ بوجھل ہوتا ہے نہ سننے والے کو ملال ہوتا ہے۔

دوسرا اعتراض

مان لیا کہ مختلف اسالیب میں تکرار فصاحت کے منافی نہیں، لیکن بعض جگہ ایک ہی جملہ بار بار آیا ہے۔ جیسے:

سورہ شعراء: 8 بار

سورہ قمر: 4 بار

سورہ رحمن: 31 بار

سورہ مرسلات: 10 بار

جواب

ان سورتوں میں بھی تکرار بے فائدہ نہیں، بلکہ ہر بار مختلف موقع اور تعلق کے ساتھ آئی ہے:

سورہ شعراء: ہر قصے کے بعد إِنَّ فِی ذَلِكَ لَآیَةً آیا ہے تاکہ بتایا جائے مومنین کامیاب اور کافر ہلاک ہوئے۔

سورہ قمر: قصصِ انبیاء کے بعد وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ آیا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

سورہ مرسلات: ہر نشانی کے بعد آیا کہ قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔

سورہ رحمن: ہر نعمت کے ذکر کے بعد فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان تاکہ انسان و جن اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھیں۔

یہ طرز دیگر آسمانی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ مثال کے طور پر عہدِ عتیق کی کتاب “مزمور 136” میں ہر آیت کے بعد إن رحمته إلى الأبد 28 بار آیا ہے۔

(ماخوذ از “سیرت رسول عربی” علامہ نور بخش توکلی علیہ الرحمہ صفحہ ٢٨٩ تا ٢٨٢)

Related

No results found.
keyboard_arrow_up