🌹مدارس میں فنی مہارت کا فقدان🌹
محمد شاہد علی مصباحی
روشن مستقبل دہلی
تحریک علماے بندیل کھنڈ
👈 بہت سے لوگ تو سرخی پڑھتے ہی نوازنا شروع کردیں گے مگر مجھے ان کی قطعی فکر نہیں۔ لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمارے یہاں فنی مہارت کا فقدان ہے۔
آپ خود اپنی انگلیاں پکڑیں اور ماہرین تفسیر، ماہرین اصول فقہ، ماہرین اصول حدیث، ماہرین منطق، ماہرین فلسفہ، ماہرین فلکیات، ماہرین کلام، ماہرین نحو، ماہرین صرف وغیرہ تلاش کرنا شروع کریں، یقین جانیں آپ کے صرف ایک ہاتھ کی انگلیوں کے پورے بھی ختم نہ ہوں گے اور ماہرین ختم ہو جائیں گے۔
کیا کبھی سوچا ایسا کیوں ؟
اس کی تین وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ: ہمارے مدارس نے ایسا نظام نہیں بنایا کہ اس طرح فنون میں تخصص کا اہتمام کیا جاے۔
دوسری وجہ: اہل مدارس نے نظام تعلیم ایسا نہیں بنایا کہ ایک استاد کو ایک ہی فن کی کتابیں پڑھانے کو دی جائیں۔
تیسری وجہ: ہمارے اساتذہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ہر فن کی کتابیں پڑھائیں ورنہ لوگ کہیں گے کہ اس کو بقیہ فن نہیں آتے۔ یا اگر میں ایک ہی فن پڑھاؤں گا تو میرے بقیہ فنون کمزور ہوجائیں گے۔
👈 جبکہ پہلی صورت میں دوسروں کے لیے اپنے علم سے کھلواڑ کرتے ہیں اور دوسری صورت “طلب الکل فوت الکل” کے قبیل سے ہے.
👈 استاد کے اپنے فن میں ماہر نہ ہونے کے نقصانات
پہلا نقصان: اگر استاد اپنے فن میں ماہر نہیں ہے تو وہ اس فن کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوگا اور جو شخص خود ہی فن کی باریکیوں سے آگاہ نہ ہو بچوں کو کیسے مطمئن کرے گا ؟
لہذا بچوں کی زندگی سے کھلواڑ کے سوا اس سے کچھ اور حاصل نہیں ہو سکتا۔
دوسرا نقصان: جب ہمیں کسی فن پر کام کرنے والوں کی ضرورت محسوس ہوگی تو وہ کام ہرگز نہ ہو سکے گا۔
تازہ واقعہ: اسی ہفتہ ہم نے کچھ علوم پر مخصوص کورس تیار کرنے کی غرض سے افراد کی تلاش شروع کی تو سواے دو ایک افراد کے کوئی اس پر تیار نہ ہوا کسی نے کہا کہ وقت نہیں ہے اور کسی نے کھل کر بتایا اس طرز پر کام کرنا مشکل ہے کیوں اس انداز سے کبھی سوچا نہیں لہذا پریشانی ہوگی۔
👈 اس پریشانی کا حل ہمیں بھی کالیجوں اور یونیورسٹیوں کی طرح اساتذہ کو ایک فن کی کتابیں پڑھانے کو دینی چاہیے۔
اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ طلب الکل کے فارمولے کو چھوڑ کر کسی ایک فن میں ملکہ حاصل کریں۔ اس سے خود ان کو بھی فائدہ ہوگا اور طلبہ کو بھی بے انتہا فائدہ ہوگا۔ ساتھ ہی آپ اس فن کے لیے اپنی بہترین خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
کاش ہم اس جانب بھی فکر کریں!..
22/12/2021

